منٹو کا ادب اور اشفاق احمد کا ’زاویہ‘

اتوار 8 مارچ 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ہجرت کے بعد سعادت حسن منٹو کے لاہور میں گزرے ماہ و سال کی ایک خاص بات پر کم ہی توجہ دی گئی۔ یہ خاص پہلو یہ تھا کہ منٹو نے لاہور آنے کے بعد یہاں کے نوجوان ادیبوں کے ساتھ گہرا ربط رکھا۔

عام تاثر تو یہ ہے کہ منٹو اپنے سوا کسی اور کو گردانتے نہیں تھے، لیے دیے رہتے تھے، لیکن اگر آپ اس زمانے میں جھانک کر دیکھیں تو حیرت ہو گی کہ منٹو کس خلوص سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ان کی تحریریں شوق سے پڑھتے اور اپنا فیڈ بیک دیتے تھے۔ بعض مرتبہ تراش خراش سے ان نئے لکھنے والوں کی تحریر سنوارتے تھے جس کی ایک بڑی مثال محمد خالد اختر  کی کہانی ’کھویا ہوا افق‘ ہے۔

نوجوان افسانہ نگاروں میں منٹو سب سے بڑھ کر اشفاق احمد سے متاثر ہوئے تھے۔ اشفاق احمد کا افسانہ ’گڈریا‘ انہیں پسند آیا تھا۔ یہ افسانہ جنوری 1954 میں ’نقوش‘ کے افسانہ نمبر میں شائع ہوا تھا۔ آج بھی اسے اردو کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گڈریا کے بارے میں منٹو کی تحسین کا ذکر اے حمید کی کتاب ’داستان گو‘ میں ملتا ہے: ’منٹو صاحب لکشمی مینشن کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ ایک بار مَیں اور اشفاق احمد ان سے ملنے گئے تو منٹو صاحب نے اشفاق کے افسانے کی تعریف کی۔ اشفاق جھینپ گیا۔ چہرہ سرخ ہو گیا اور بولا :

’وہ تو منٹو صاحب بس ‘

 منٹو صاحب نے عقابی آنکھوں سے اشفاق کی طرف دیکھ کر کہا:

 ’بس کیا۔ اچھا افسانہ لکھا ہے تم نے ’

پھر منٹو صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا:

’تم بکواسی ہو۔ کھمبے کو دیکھ کر رومانٹک ہو جاتے ہو‘۔

اشفاق احمد کو منٹو سے داد ملنے کی تصدیق انتظار حسین نے بھی کی ہے:

’اشفاق احمد کو پہلی داد منٹو نے دی، بعد میں وہ اس کا حوالہ نہیں دیتا تھا، ناشکرا تھا، اسے تو فخر کرنا چاہیے تھا کہ منٹو نے اسے سراہا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے ظہیر عباس تک: بڑا ہے درد کا رشتہ

منٹو نے اشفاق احمد کے افسانے صرف قاری کی حیثیت سے نہیں پڑھے بلکہ مدیر کے طور پر بھی انہیں پرکھا تھا۔ محمد حسن عسکری کے ساتھ مل کر انہوں نے ’اردو ادب‘ کے نام سے پرچہ نکالا تھا جس کے 2 ہی شمارے شائع ہوسکے تھے لیکن اپنے مدیروں کی نسبت اور مواد کی وجہ سے یہ شمارے حوالے کی چیز بن گئے۔ پہلے پرچے میں اشفاق احمد کا افسانہ ’سنگ دل‘ اور دوسرے میں ’بابا‘ شائع ہوا تھا۔ یہ دونوں افسانے ’ایک محبت سو افسانے‘ میں شامل ہیں۔

 دونوں افسانہ نگاروں میں قرب کی بصری شہادت وہ تصویر ہے جس میں منٹو نے بے تکلف دوستوں کی طرح اشفاق احمد کی گردن میں بازو حمائل کر رکھا ہے۔ ’نقوش‘ میں شائع ہونے والی اس تصویر میں شوکت تھانوی اور  اے حمید بھی موجود ہیں۔

اشفاق احمد نے سہیل احمد خان، سعادت سعید اور رضوان مرزا کو پینل انٹرویو میں بتایا تھا:

’منٹو صاحب، میرے بہت عظیم بڑے دوستوں میں سے تھے اور ان کےکئی سارے خط مجھ سے ضائع ہو گئے، اچھے شرارتی خط جو انہوں نے مجھے اٹلی میں لکھے اور یہاں بھی ان سے ملاقات ہوتی، منٹو صاحب، عسکری صاحب اور مَیں لکشمی مینشن میں ہر روز شام کو ملتے تھے۔ میں ان دنوں نیا لکھنے والا ینگ آدمی تھا لیکن ان سے ملاقاتیں روز رہتی تھیں لیکن منٹو صاحب کا اثر نہیں‘۔

اشفاق احمد مزنگ میں رہتے تھے اور منٹو صاحب کا ان کے یہاں بھی آنا جانا تھا۔ یہ جگہ ان کی رہائش سے زیادہ دور نہیں تھی۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، افسانہ نگار اور اشفاق احمد کے بھتیجے ڈاکٹر خالد آفتاب نے منٹو کے مزنگ میں اپنے گھر  آنے کا تذکرہ کیا ہے۔

اشفاق احمد گھر کی تیسری منزل پر رہتے تھے اور ایک دفعہ خالد آفتاب منٹو کو اپنے  چچا کے کمرے میں لے گے تھے جنہیں منٹو صاحب نے خواجہ کہہ کر مخاطب کیا تھا اور یہ اشفاق احمد پر ہی موقوف نہیں تھا، منٹو صاحب اور بھی لوگوں کو خواجہ کہہ کر بلاتے تھے۔ اس کے لیے کشمیری ہونا شرط نہیں تھا۔ منٹو نے اشفاق احمد سے مٹکے سے پانی پلانے کا کہا تو اشفاق احمد نے بھتیجے کو منٹو صاحب کے لیے پانی لانے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں:ذوالفقار علی بھٹو کا مصور دوست

اشفاق احمد کے اس مٹکے کی کہانی بھی خالد آفتاب نے بیان کی ہے:

’میرے چچا نے پانی پینے کے لیے مٹی کا ایک بڑا سا بیضوی مٹکا ایک گھڑونچی پر رکھا ہوا تھا جس میں صبح و شام پانی بھرا جاتا تھا البتہ پانی نکالنے کا ایک انوکھا انداز وضع کیا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس مٹکے کے نچلے حصے میں ایک باریک سا ورمے سے سوراخ کیا گیا تھا جس کو لکڑی کی ایک گلی سے بند کیا جاتا تھا اور جب کبھی پانی کی ضرورت ہوتی تو اس گلی کو باہر کھینچ لیا جاتا۔ پانی ایک دھار کی شکل میں گلاس میں بھر جاتا تو لکڑی کی گلی کو سوراخ میں پھنسا کر پانی کو بند کر دیا جاتا۔ یعنی وہ ایک طرح کی ٹوٹنی تھی‘۔

انتظار صاحب نے جو یہ کہا تھا کہ اشفاق احمد منٹو کا نام نہیں لیتے تھے تو بات یوں ہے کہ وہ ان کو بڑا افسانہ نگار ہی نہیں مانتے تھے اور ان کے افسانوں کو صحافیانہ نوعیت کے افسانے کہتے تھے۔ یہ وہ نخوت اور نظریاتی بدلاؤ تھا جس کی وجہ سے ’گڈریا‘ کی مقبولیت کے پیچھے بھی ان کو لگتا تھا کہ اس میں صحافیانہ سوچ ضرور کار فرما ہو گی۔ ’گڈریا‘ کی وسیع المشرب فضا بھی انہیں کھٹکنے لگی تھی۔ اردو ادب اس افسانے پر بے شک فخر کرتا رہے گا اس کے خالق نے اسے رد کر دیا تھا۔

’جنگ‘ اخبار کے لیے انٹرویو میں انہوں نے سہیل وڑائچ کو بتایا تھا کہ وہ گڈریا لکھنے پر تھوڑا سا شرمندہ بھی ہیں اور ’میرا خیال ہے کہ مجھے گڈریا نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ اب معاشرتی مسائل مجھے زیادہ عزیز ہیں‘۔

اس انٹرویو میں انہوں نے منٹو کی کہانیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ بڑی اچھی صحافیانہ کہانیاں ہیں جن میں سوچ کا عنصر نہیں ہے اور انہیں دنیا کے دوسرے بڑے ادیبوں کے مقابلے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک جگہ ایم اسلم اور منٹو کا نام ایک ساتھ لیا۔ اس سے زیادہ اَن مِل اور بے جوڑ بات کیا ہو سکتی ہے۔

اشفاق احمد کے اس فرمان کے بعد کہ منٹو کی کہانیاں باہر کے بڑے لکھاریوں کے پائے کی نہیں ہیں، اس سے منٹو کی کہانی ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے بارے میں معروف نقاد ڈاکٹر سہیل احمد خان کی ایک بات ذہن میں آگئی جس میں انہوں نے بیسویں صدی کے نامور فکشن نگار  ایوا لین وا کے پاگل خانے کے مقابلے میں افسانے سے منٹو کی کہانی کو اس بنیاد پر بہتر  ٹھہرایا ہے کہ منٹو کے فن میں زیادہ جہتیں ہیں۔

طاہر مسعود سے انٹرویو میں اشفاق احمد نے راجندر سنگھ بیدی کی بہت تعریف کی اور ٹھیک کی کہ وہ واقعی اردو کے بڑے افسانہ نگار ہیں لیکن بیدی کے ساتھ منٹو کا تذکرہ جس پیرائے میں کیا وہ بھلا معلوم نہیں ہوتا:

’منٹو میرے عزیز دوستوں میں سے تھے لیکن وہ بیدی کی گرد کو بھی نہیں پہنچتے۔ بیدی کو کم لوگ پڑھتے ہیں۔ کوئی صاحب نظر ہی اسے پڑھتا ہے‘۔

اشفاق احمد بیدی کو چونکہ خود پڑھتے تھے اس لیے ان کے قاری کے لیے صاحبِ نظر ہونا ضروری قرار پایا اور منٹو کے بارے میں کہنا کہ وہ کسی کی گرد کو نہیں پہنچتے، انصاف کی بات نہیں۔

سنہ 1986 میں ’نواے وقت‘ کے لیے اشفاق احمد نے عطاء الحق قاسمی کو دیے گئے انٹرویو میں منٹو کی افسانہ نگار کی حیثیت سے ہتک کی اور بڑے مربیانہ لہجے میں ان کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ منٹو کے بارے میں انہوں نےانٹرویو میں فرمایا کہ وہ ان کا بہت اچھا دوست تھا جو انہیں بہت پیارا بھی تھا۔

منٹو سے دوستی جتانے کے بعد وہ ان کے افسانے میں مرتبے ہی کے انکاری ہو گئے:

’منٹو کے بارے میں مجھے ایک خدشہ تھا کہ یہ بہت جلد ادبی طور پر مر جائے گا تو ایسا ہی ہوا۔اس نے اپنے زمانے میں نہایت اچھی چیزیں لکھیں۔ مزے دار بھی تھیں۔ صحافیانہ بھی تھیں۔ صحافیانہ چیزیں صحافت میں یا فائلوں میں تو محفوظ رہ سکتی ہیں لیکن ادب میں نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں:نثار عثمانی اور محمد ضیاء الدین: پاکستانی صحافت کا وقار

اشفاق احمد کی اس غلط بیانی کی سزا یہی تھی کہ اس کا پوسٹ مارٹم مشفق خواجہ کے کاٹ دار اسلوب سے ہوتا جنہوں نے منٹو کے افسانوں کو صحافیانہ قرار دینے پر ان پر گرفت کی اور طنز کے نشتر چلاتے ہوئے لکھا:

’ہمیں اشفاق احمد سے ایک نیاز مندانہ شکایت ہے کہ انہوں نے منٹو کی ادبی موت کا اعلان خاصی تاخیر سے کیا ہے۔ اگر وہ یہ فریضہ بیس پچیس سال پہلے انجام دے دیتے تو آج بجائے منٹو کے کسی ایسے شخص کو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار تسلیم کر لیا جاتا جس کی تحریریں صحافت کی سطح سے بلند ہیں۔ اتنی بلند کہ ٹیلیویژن کی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ ٹیلیویژن کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی سن لیجے کہ اشفاق احمد کا خیال ہے کہ انہوں نے ٹیلیویژن کے لیے جو کچھ لکھا ہے اس کا درجہ اُن کی اُن تحریروں سے بہت بلند ہے جنہیں ادبی تخلیقات کہا جاتا ہے۔ گویا منٹو ادب تخلیق کریں تو وہ صحافت ہے اور اشفاق احمد صحافت سے بھی کم درجے کی چیزیں لکھیں تو وہ ادبی تخلیقات سے بہتر ہیں۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘۔

اشفاق احمد کے ادب پر ٹیلیویژن کو ترجیح دینے کو ان کے دوستوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ ممتاز مفتی انہیں ادب کی طرف لوٹ آنے کے لیے کہتے رہے لیکن میڈیا کی اقلیم فتح کر لینے کے بعد ان کا دل وہیں لگ گیا تھا۔ اس سے ان کے تخلیقی سفر کی راہ کھوٹی ہوئی جس پر انتظار حسین بھی افسوس کا اظہار کرتے تھے۔ اے حمید نے ایک دفعہ ان کا ٹی وی ڈراما ’گرین کارڈ‘ دیکھ کر کہا تھا کہ انہوں نے اتنا بڑا موضوع ٹیلیویژن پر ضائع کر دیا، بہتر ہوتا اگر وہ اس پر ناولٹ لکھتے۔

اس پر اشفاق احمد نے جواب دیا:

’ریڈیو، ٹی وی کا میڈیم بڑا وسیع ہے۔ میں اگر ناولٹ لکھتا تو کتنے لوگ اسے پڑھتے؟ تم بتاؤ۔زیادہ سے زیادہ چند ہزار آدمی اسے پڑھتے۔ مگر ٹیلیویژن پر بڑے پلے کو لاکھوں کروڑوں آدمیوں نے دیکھا ہے۔ یوں میرا خیال کروڑوں آدمیوں تک پہنچ گیا‘۔

 اشفاق احمد کے نقطہ نظر سے اے حمید متفق نہیں ہوئے اور ان کے خیال میں اشفاق احمد نے ٹی وی کے لیے لکھ کر اپنی صلاحیتیں ضائع کیں۔

معروف نقاد وارث علوی نے لکھا تھا:

’جہاں آپ نے آرٹ کو اپنی زندگی کی ثانوی سرگرمی بنایا، آرٹ بھی آپ سے انتقام لیتا ہے اور آپ کو دوسرے درجے کا فنکار بنا کر رکھ دیتا ہے‘۔

اس سے ملتی جلتی بات ممتاز شاعر سرمد صہبائی نے بھی کی ہے۔ وہ بھی اسے آرٹ کے انتقام کا نام دیتے ہیں جو ان کے خیال میں بہت خوفناک ہوتا ہے۔

ایک بات پنجابی کے معروف شاعر احمد راہی کی بھی ذہن میں در آئی ہے جو انہوں نے نامور موسیقار رفیق غزنوی کے  حوالے سے  لکھی تھی:

’وہ کسی ایسے فنکار کو معاف نہیں کرتا جو اپنے فن کے بجائے دوسری چیزوں سے دل لگا بیٹھے‘۔

یہ بھی پڑھیں:حادثے سے بڑا سانحہ

اشفاق احمد ایسے ہی فنکار تھے جو اپنے فن کی جگہ دوسروں چیزوں کو دل دے بیٹھے تھے۔ میڈیا سے ملنے والی شہرت اور اس کی تام جھام نے اشفاق احمد کو اس درجہ متاثر کیا کہ انہیں میڈیا پر اپنی لکھت ادب سے برتر نظر آنے لگی، پھر ادب نے ان سے انتقام لیا اور وہ افسانہ نگاروں کی فہرست میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے۔

طرفہ تماشا یہ کہ جن منٹو کی ادبی موت کا انہوں نے اعلانِ عام کیا، ان کا رتبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بلند ہوتا گیا۔ آج مختلف حوالوں سے منٹو کے کام کا چرچا ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں مختلف زبانوں میں برابر لکھا جا رہا ہے۔ ان کا ادبی کام مختلف انداز میں مرتب ہو کر سامنے آ رہا ہے۔ بہت سے ناشر اسے شائع کر رہے ہیں۔ منٹو  پر اردو اور ہندی میں فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں۔ انگریزی اور ہندی ترجموں کی صورت میں ان کے فکشن اور نان فکشن کو قارئین کا وسیع حلقہ میسر آیا ہے اور عصر حاضر کے لیے منٹو کی معنویت پر برابر بات ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف اشفاق احمد کا صرف ’زاویہ‘ بک رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچے گے

مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

اسلام آباد: پریس کلب انڈرپاس ٹریفک کے لیے بند، متبادل راستے کیا ہیں؟

آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟

وائی فائی سے نگرانی، کیسے رؤٹر دیواروں کے پار انسانی حرکت دیکھ سکتا ہے؟

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان