بھارتی ریاست مغربی بنگال میں 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو عثمانی ہادی کے قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِ خانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں
بھارتی حکام کے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق دونوں مشتبہ افراد کو سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے کے بعد واپس بنگلہ دیش جانے کی کوشش کررہے تھے۔
گرفتار افراد کی شناخت راہول المعروف فیصل کریم اور عالمگیر حسین کے طور پر ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے ہادی کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ وہ میگھالیہ سرحد کے راستے بنگلہ دیش سے فرار ہوئے اور بعد ازاں مغربی بنگال پہنچے۔ دونوں ملزمان کو پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
ہادی کے قتل کا پس منظر
عثمانی ہادی ایک نمایاں نوجوان رہنما اور سیاسی کارکن تھے جنہیں گزشتہ برس بنگلہ دیش میں قتل کیا گیا۔
عثمان ہادی انقلابی منچ کے ترجمان تھے اور 2024 کی طلبہ قیادت والی تحریک کے بعد ملک بھر میں نمایاں شخصیت بن چکے تھے۔ وہ پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ سیاسی لحاظ سے اہم شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔
ان کے قتل کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، پرتشدد واقعات اور میڈیا و سیاسی دفاتر پر حملے ہوئے، جس میں ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: انقلاب منچہ کا آج بنگلہ دیش بھر میں احتجاج کا اعلان
بنگلہ دیشی حکام نے پہلے بتایا تھا کہ حملہ آور ملک سے فرار ہو گئے۔
بھارت میں حالیہ گرفتاریوں کو بنگلہ دیش کے حالیہ برسوں میں سب سے متنازعہ سیاسی قتل کی تفتیش میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔














