ایران میں مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے بھی ان سے وفاداری کا اعلان کر دیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری پر تنقید کرتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب، پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج کیجانب سے وفاداری کا اعلان
ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ ان کے انتخاب کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے بھی ان کی قیادت تسلیم کرتے ہوئے ان سے مکمل وفاداری کا عہد کیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور طویل عرصے سے ایرانی مذہبی و سیاسی حلقوں میں بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے قم کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی اور انہیں پاسدارانِ انقلاب اور سکیورٹی اداروں کے بعض حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت تصور کیا جاتا رہا ہے۔
اگرچہ وہ باضابطہ طور پر کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، تاہم ایران کی اندرونی سیاست میں انہیں اہم کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
Iran names Mojtaba Khamenei as Supreme Leader despite US and Israeli threats. pic.twitter.com/HPNoAjq7nV
— Al Jazeera English (@AJEnglish) March 8, 2026
مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے پر عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری پر مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما کو بین الاقوامی برادری، خصوصاً امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران کا نیا سپریم لیڈر امریکا کی منظوری یا تعاون کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا۔
🔊🚨
Mojtaba Khamenei, son of ayatollah killed in U.S.-Israeli strikes, named Iran's new supreme leader, state media reportshttps://t.co/UXj42U9VuN— Reinaldo Molares (@reyjmolares) March 8, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ایران میں سخت گیر قیادت کے تسلسل کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جس کے خطے کی سیاست اور عالمی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














