ایران سے جاری جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اتوار کو بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت 107.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو جمعہ کے اختتامی نرخ 92.69 ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 16.5 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح امریکا میں پیدا ہونے والے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت تقریباً 106.22 ڈالر فی بیرل رہی، جو جمعہ کے 90.90 ڈالر کے مقابلے میں 16.9 فیصد اضافہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں تجارت جاری رہنے کے ساتھ قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد جبکہ برینٹ کروڈ میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ ایران سے جاری جنگ ہے جو اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور جس نے خلیج فارس سے تیل اور گیس کی پیداوار اور ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل
آزاد تحقیقاتی ادارے کے مطابق روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل خام تیل، جو دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، عام طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔
تاہم ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنا تقریباً بند کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے عالمی توانائی کی ترسیل ہر صورت برقرار رہے گی، ٹرمپ کا صورت میں آبنائے ہرمز کھلوانے کا اعلان
برآمدات میں کمی کے باعث ذخیرہ کرنے کے ٹینک بھرنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی تیل کی پیداوار کم کر دی ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ایران، اسرائیل اور امریکا کی جانب سے تیل و گیس کی بعض تنصیبات پر حملوں نے بھی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
امریکی خام تیل کی قیمت آخری بار 30 جون 2022 کو 105.76 ڈالر فی بیرل تک گئی تھی، جبکہ برینٹ کروڈ 29 جولائی 2022 کو 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا۔ موجودہ اضافہ اس کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی معیشت اور مہنگائی کے خدشات
یکم مارچ کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تیزی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور امریکی صارفین کے اخراجات کم ہونے کا خدشہ ہے، جو امریکی معیشت کا اہم محرک سمجھے جاتے ہیں۔
امریکا میں عام پیٹرول کی قیمت اتوار کو بڑھ کر 3.45 ڈالر فی گیلن ہو گئی، جو ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 47 سینٹ زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان کی سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کے لیے متبادل راستہ دینے کی درخواست
اسی طرح ڈیزل کی قیمت تقریباً 4.60 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ہفتہ وار بنیاد پر 83 سینٹ اضافہ ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پیٹرول کی قیمت جلد دوبارہ 3 ڈالر فی گیلن سے کم ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق بدترین صورتحال میں بھی یہ بحران چند ہفتوں تک رہ سکتا ہے، مہینوں تک نہیں۔
ماہرین کی عالمی معیشت کے بارے میں تشویش
بعض ماہرین اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے بڑا بوجھ بن سکتی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اتوار کی صبح تہران میں تیل کے ذخائر اور پیٹرولیم ٹرانسفر ٹرمینل پر اسرائیلی حملوں میں 4 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان تنصیبات کو ایرانی فوج میزائل لانچ کرنے کے لیے ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث تیل کی صنعت پر اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایران کی برآمدات اور چین پر اثرات
ایران روزانہ تقریباً 16 لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ چین کو جاتا ہے۔ اگر جنگ کے باعث ایرانی برآمدات متاثر ہوئیں تو چین کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے اور اسے ماضی میں کب کب بند کیا گیا؟
جنگ کے دوران قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، اگرچہ یہ اضافہ تیل کے مقابلے میں کم ہے۔ اتوار کے آخر تک قدرتی گیس تقریباً 3.33 ڈالر فی ہزار مکعب فٹ فروخت ہو رہی تھی، جو جمعہ کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ ہے۔
اسٹاک مارکیٹ پر بھی منفی اثر
اتوار کی رات امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ پیر کو وال اسٹریٹ میں مندی کے ساتھ کاروبار شروع ہو سکتا ہے۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچر 1.6 فیصد، ڈاؤ جونز 1.8 فیصد جبکہ نیسڈیک فیوچر 1.5 فیصد نیچے رہا۔
جمعہ کو بھی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کمی آئی تھی، جب ایس اینڈ پی 500 میں 1.3 فیصد کمی، ڈاؤ جونز میں تقریباً 450 پوائنٹس کی کمی جبکہ نیسڈیک میں 1.6 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔














