زکوٰۃ اور صدقہ میں بنیادی فرق کیا ہے؟ ڈاکٹر راغب نعیمی  کی رائے

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا ہے کہ زکوٰۃ اور نفلی صدقہ (صدقہ) کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔

ان کے مطابق زکوٰۃ اسلامی شریعت کے واضح اصولوں کے تحت ادا کی جاتی ہے، جبکہ صدقہ اللہ کی رضا کے لیے کسی بھی مقدار میں آزادانہ طور پر دیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں انٹرویو کے دوران ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں زکوٰۃ کی مقدار اور اس کے مستحق افراد کی اقسام واضح طور پر بیان کی گئی ہیں۔
دوسری جانب صدقہ ایک رضاکارانہ خیرات ہے جو ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے مختلف صورتوں میں دی جا سکتی ہے۔

صدقہ صرف رقم تک محدود نہیں

انہوں نے کہا کہ خیرات صرف مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ اسے دیگر شکلوں میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ضرورت مندوں کو کپڑے، ضروری اشیاء، طلبہ کو کتابیں فراہم کرنا یا کسی کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے آلات یا مشینری فراہم کرنا بھی صدقہ کی صورتیں ہیں۔

ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ قرآنِ کریم میں زکوٰۃ کے مستحق افراد کی 8 اقسام بیان کی گئی ہیں۔ ان میں غریب، مسکین، مقروض افراد اور اللہ کی راہ میں کام کرنے والے افراد سمیت دیگر مستحق طبقات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ صرف انہی افراد کو دینی چاہیے جنہیں اسلامی شریعت مستحق قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق ناجائز یا حرام طریقے سے کمائی گئی دولت سے کیا گیا نیک عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی یا ناجائز آمدن سے زکوٰۃ یا صدقہ دیتا ہے تو اسے اس کا اجر نہیں ملتا بلکہ یہ عمل گناہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مستحقین کی درست جانچ کی ضرورت

ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ معاشرے میں ایک رجحان بڑھ رہا ہے کہ بعض لوگ صرف اس لیے امداد قبول کر لیتے ہیں کیونکہ وہ مفت تقسیم کی جا رہی ہوتی ہے، حالانکہ وہ حقیقی معنوں میں مستحق نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ دینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحق افراد کی درست جانچ کریں تاکہ یہ رقم واقعی ضرورت مند لوگوں تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ مالی طور پر مستحکم شخص کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، تاہم اگر ضرورت ہو تو اسے نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ پیشہ ور بھکاریوں کو زکوٰۃ یا صدقہ دینے سے گریز کریں اور ایسے باعزت ضرورت مند افراد کو تلاش کریں جو ضرورت کے باوجود دوسروں سے مدد نہیں مانگتے۔

فطرانہ اور زکوٰۃ کی تقسیم کا نظام

فطرانہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ اگر عید کی نماز سے پہلے کسی بچے کی پیدائش ہو جائے تو اس بچے کی طرف سے فطرانہ ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عام طور پر والد اپنے زیر کفالت بچوں کی طرف سے فطرانہ ادا کرتے ہیں، جبکہ عورت اپنا فطرانہ خود بھی ادا کر سکتی ہے، تاہم اگر شوہر اس کی طرف سے ادا کرے تو وہ بھی درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ فطرانہ روزوں کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کے ازالے کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ مستحق افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں اور ان کی خوراک اور بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔

سرکاری زکوٰۃ نظام کے بارے میں مؤقف

حکومتی زکوٰۃ نظام سے متعلق سوال پر ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ اگرچہ سرکاری نظام کے حوالے سے کچھ خدشات موجود ہیں، تاہم زکوٰۃ فنڈز کو اداروں، اسپتالوں اور فنی تربیتی مراکز کے ذریعے مستحق افراد تک پہنچائی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچے گے

مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

اسلام آباد: پریس کلب انڈرپاس ٹریفک کے لیے بند، متبادل راستے کیا ہیں؟

آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟

وائی فائی سے نگرانی، کیسے رؤٹر دیواروں کے پار انسانی حرکت دیکھ سکتا ہے؟

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان