ایران میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور نئے سپریم لیڈر نامزدگی کے بعد ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت ان کے حق میں متحد ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں گے۔ وہ انہیں ایک کمزور شخصیت قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بطور امریکی صدر وہ اس عمل میں اپنی رائے دینا چاہیں گے۔
دوسری طرف ایرانی حکام کے مطابق یہ ایران کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ ملک کے مستقبل کے فیصلے خود ایرانی عوام اور قیادت کریں گے اور کوئی بھی بیرونی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایران کی سیاسی سمت کا تعین نہیں کر سکتی۔
ریاستی اداروں کی مکمل حمایت
الجزیرہ سے وابستہ رپورٹر نے تہران سے بتایا ہے کہ ایران کے تقریباً تمام اہم سیاسی اور سکیورٹی اداروں نے سید مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ان اداروں میں صدرِ مملکت، پارلیمنٹ کے اسپیکر، پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)، مسلح افواج، بسیج نیم فوجی فورس، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، قومی پولیس اور دفاع و انٹیلی جنس کی وزارتیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اتحاد کا ایک مضبوط پیغام بھی ہے، خاص طور پر ان طاقتوں کے لیے جو اس وقت ایران پر حملے کر رہی ہیں۔
ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ جنگ کے پہلے دن ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ملک میں فوری انتشار پیدا ہونے کی امیدیں پوری نہیں ہوں گی اور قیادت کی منتقلی کا عمل بھی یقینی بنا دیا گیا ہے۔
عوام نئے سپریم لیڈر کے منتظر
اس وقت ایرانی عوام اپنے نئے سپریم لیڈر کو دیکھنے اور ان کا پہلا خطاب سننے کے منتظر ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای اب تک عوامی سطح پر زیادہ سامنے نہیں آئے، اس لیے ان کے حامی ان کا چہرہ دیکھنے اور ان کی آواز سننے کے منتظر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب، پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج کیجانب سے وفاداری کا اعلان
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کی سکیورٹی انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے عوام سے رابطے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
ممکن ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے عوامی خطاب میں تاخیر کی جا رہی ہو۔














