بھتہ نہ دینے پر سرکاری ملازم کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ نے خارج کردی۔
ملزم بنگول خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔
عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی جبکہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی گواہی آدھی یا مکمل؟ سپریم کورٹ نے وفاق و صوبوں کو نوٹس جاری کر دیے
سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے تو اس کی منسوخی کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
دوران سماعت مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بنگول خان پر قلعہ سیف اللہ میں ایک سرکاری ملازم کو اغوا کرنے کا الزام ہے اور اس کے خلاف اغوا کے دیگر 18 مقدمات بھی درج ہیں۔
وکیل کے مطابق ملزم کے گھر سے مغوی کی سرکاری گاڑی برآمد ہوئی جبکہ چھاپے کے دوران گرینیڈ بھی ملے۔
مزید پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت
وکیل مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو 5 گھنٹے تک جاری رہنے والے پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر 5 گھنٹے فائرنگ ہوئی تو ملزم بچ کیسے گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ملزم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ملک کو کیا سمجھ لیا ہے، سرکاری ملازمین کو اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے 1992 کے زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیدیا
مدعی کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ ملزم بااثر ہے اور اس کا تعلق سیاست سے بھی بتایا جاتا ہے۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد درخواست واپس لینے کی بنیاد پر ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ میں کیا جائے۔














