سپریم کورٹ میں بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر شہری سے رقم وصول کرنے والے ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ملزم نے کتنی رقم وصول کی ہے۔ اس پر مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے مدعی سے ساڑھے 17 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: بھتہ نہ دینے پر اغوا کیس؛ سپریم کورٹ کا 2 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم
عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ اور متاثرہ شہری کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مدعی سے پوچھا کہ وہ کس ملک جانے کے لیے رقم دے رہا تھا۔ اس پر مدعی نے بتایا کہ اس نے یونان جانے کے لیے رقم ادا کی تھی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‘یونان جا کر تم نے دربدر ہی ہونا تھا، جوان آدمی ہو بہتر ہے یہاں ہی محنت مزدوری کرو۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘کشتی میں جاتے ہوئے کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں۔’
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مدعی کو پیسے لینے کے بعد بیرون ملک بھجوایا گیا تھا۔ اس پر مدعی کے وکیل نے بتایا کہ نہ تو اسے بیرون ملک بھجوایا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: خواتین کی گواہی آدھی یا مکمل؟ سپریم کورٹ نے وفاق و صوبوں کو نوٹس جاری کر دیے
وکیل مدعی کے مطابق ملزم کی جانب سے دیے گئے چیک بھی باؤنس ہوگئے ہیں اور چیک باؤنس ہونے کے مقدمات الگ سے درج کروائے گئے ہیں۔
ملزم کے وکیل نے مقدمے کی تیاری کے لیے مہلت طلب کی۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ‘عید سے پہلے فیصلہ کر دیں گے، ضمانت بنتی ہوئی تو ملے گی ورنہ نہیں۔’
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی۔














