افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے۔

پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ کیا کہ کچھ سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقوامی سفارتکار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کی پشت پناہی سے ٹی ٹی پی خطے کے لیے سنگین خطرہ، اقوام متحدہ کی کمیٹی کا انتباہ

سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آپریشن غضب للحق جاری: افغان طالبان کو بھاری نقصانات، 583 ہلاکتیں

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے۔

طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کا قیام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا سبب ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان