مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور تیل کی عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا سامنا ہے جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے دفاتر میں سرگرمیاں محددو کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ ہوا پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات کا انتباہ
وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے کابینہ کمیٹی نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کیا ہے جس میں پنجاب سمیت تمام صوبوں سے مشاورت کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس بحران کے پیش نظر بچت کے اقدامات کے لیے تمام محکموں سے تجاویز طلب کر لی ہیں تاکہ ایندھن کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور معاشی نقصانات کو کم سے کم رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت عید کے بعد اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ایندھن کی بچت کرے گا بلکہ ٹریفک کی بھیڑ کو بھی کم کرے گا۔ اسی طرح سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی پر بھی مشاورت جاری ہے۔
صرف ضروری اسٹاف کو دفتر آنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ باقی ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ یہ اقدامات کورونا کی وبا کے دور کی طرح دوبارہ نافذ کیے جا رہے ہیں جہاں فاصلاتی تعلیم اور ریموٹ ورک نے ایندھن کی کھپت کو نمایاں طور پر کم کیا تھا۔
مزید پڑھیے: نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین
پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں جس کی وجہ سے پنجاب حکومت کے مختلف جاری منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر عوامی فلاح و بہبود کے پروگرام جیسے صاف ستھرا پنجاب اور کلینک آن ویلز کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ’صاف ستھرا پنجاب پروگرام‘جو صفائی اور کوڑا کرکٹ کے انتظام پر مبنی ہے، عید جیسے مواقع پر فعال رہتا ہے اور اس میں گاڑیوں کا استعمال ضروری ہے۔ اسی طرح، کلینک آن ویلز چیف منسٹر مریم نواز کا ایک انقلابی پروگرام ہے جس کے تحت موبائل ایمبولینسز اور کلینکس شہری جھونپڑیوں اور آس پاس کے علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ یہ وینز ہفتے میں 6 دن صبح 9 بجے سے شام 3 بجے تک چلتی ہیں لیکن ایندھن کی کمی اور قیمتوں میں اضافے سے ان کی آپریشنل لاگت بڑھ جائے گی جس سے پروگرام کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے عید سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے تاکہ ضروری اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں قیمتوں پر کنٹرول کو مزید سخت کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کی میزائل صلاحیت دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے: ایرانی کمانڈر
اور ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی منافع خوروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔














