حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اپنی نوعیت میں محدود ہیں اور بڑے معاشی بحران کے مقابلے میں ان کے اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔
حکومت نے حالیہ فیصلوں کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی، بیرون ملک دوروں پر پابندی، افطار پارٹیوں اور تربیتی پروگراموں کی منسوخی، سرکاری ملازمین کے ایندھن الاؤنس میں کمی اور ورک فرام ہوم جیسے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے اخراجات کم ہوں گے اور عوام کو یہ پیغام دیا جائےگا کہ مشکل معاشی حالات میں ریاست بھی بچت کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔
یہ اقدامات بحران کے مقابلے میں کم ہیں، مہتاب حیدر
ماہر معیشت مہتاب حیدر کے مطابق موجودہ معاشی بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکومت کے اقدامات ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دو دن کی تنخواہیں دینے یا محدود اخراجات کم کرنے جیسے اقدامات بڑے معاشی بحران کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی بڑے پیمانے پر بچت چاہتی ہے تو پارلیمنٹیرینز کے لیے مختص ایس ڈی جیز پروگرام میں موجود قریباً 70 ارب روپے کے فنڈز میں کمی جیسے فیصلے بھی کیے جا سکتے تھے۔
مہتاب حیدر نے بیوروکریسی کے لیے مونیٹائزیشن پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ بعض افسران ایک طرف مونیٹائزیشن الاؤنس بھی لے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری گاڑیاں اور سرکاری ایندھن بھی استعمال کررہے ہیں۔ ان کے بقول اس پالیسی میں اصلاحات کر کے زیادہ مؤثر بچت کی جا سکتی تھی۔
حکومت عوام کو پیغام دینا چاہتی ہے، راجا کامران
ماہر معیشت راجا کامران کے مطابق حکومت کے اقدامات کا ایک مقصد مالی بچت کے ساتھ ساتھ عوام کو ایک سیاسی و معاشی پیغام دینا بھی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بیرون ملک دوروں، افطار پارٹیوں اور دیگر سرکاری تقریبات پر پابندی جیسے اقدامات سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ خود بھی اخراجات کم کررہی ہے جبکہ عوام پر بھی معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
راجا کامران کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اگر 100 ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ ہو جاتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا کیونکہ ملک کا زیادہ تر ایندھن درآمد کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگے داموں تیل خریدنے، بحری جہازوں کے ذریعے ترسیل اور سیکیورٹی اخراجات کی وجہ سے پاکستان میں ایندھن عالمی منڈی کے مقابلے میں بھی زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں کمی اور غربت میں اضافے کے خدشات موجود ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں غربت کی شرح قریباً 27 فیصد ہے جس میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اخراجات کم کرنے سے معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے، شکیل احمد
ماہر معیشت شکیل احمد نے کہا کہ اگرچہ حکومت کو یہ اقدامات پہلے کرنے چاہیے تھے، تاہم اب بھی یہ فیصلے مثبت اثرات لا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومتوں نے پہلے ہی کچھ بچتی اقدامات کا اعلان کر دیا تھا جبکہ وفاقی حکومت نے قدرے تاخیر سے فیصلہ کیا۔
شکیل احمد کا کہنا تھا کہ ایندھن الاؤنس میں 50 فیصد کمی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی اور 50 فیصد سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت جیسے اقدامات سے فیول کی بچت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کا 90 فیصد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے، اس لیے اگر ایندھن کے استعمال میں کمی آتی ہے تو درآمدی بل پر دباؤ بھی کم ہوگا اور بجٹ خسارہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں ہفتے میں دو دن تعطیل جیسے اقدامات بھی ایندھن کے استعمال میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں، جیسا کہ کورونا وبا کے دوران آن لائن کلاسز کے تجربے سے ظاہر ہوا تھا۔
تیل کی عالمی قیمتیں بڑا خطرہ، شعیب نظامی
سینیئر معاشی رپورٹر شعیب نظامی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال عالمی تیل مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان کو اضافی ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پہلے ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود رکھنے کی کوشش کررہا ہے اور آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے تحت مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل اور مہنگائی دونوں کو بڑھا سکتا ہے۔
شعیب نظامی نے کہاکہ پاکستان کو طویل مدتی حل کے طور پر توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت نے الیکٹرک بائیکس کے لیے قریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے اور اگر سرکاری ملازمین کو ای وی بائکس فراہم کی جائیں تو ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے کچھ حد تک بچت ممکن ہے، تاہم پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے مقابلے میں زیادہ جامع اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور سرکاری اخراجات میں بنیادی اصلاحات کے بغیر معاشی دباؤ کم کرنا مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو مہنگائی اور معاشی سست روی کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
حکومت چاہتی ہے پیٹرول کی قیمت مزید نہ بڑھانی پڑے، شہباز رانا
ماہرِ معیشت شہباز رانا نے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کیے گئے حالیہ معاشی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے بنیادی مقاصد ہیں کہ تیل کے استعمال میں کمی لائی جائے اور سبسڈی کے لیے وسائل جمع کرنا تاکہ عوام پر ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اسکولوں کی بندش، سرکاری سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی اور سرکاری گاڑیوں میں سے 60 فیصد کو نہ چلانے جیسے فیصلے شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایندھن کی مجموعی کھپت کو کم کرنا ہے۔
شہباز رانا کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ کچھ مالی اقدامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ وسائل جمع کیے جا سکیں۔ ان میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں کٹوتی، کابینہ کے ارکان کو دو ماہ تک تنخواہیں نہ دینا اور گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے بیوروکریٹس کی دو دن کی تنخواہ کاٹنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کے ارکان کی 2 ماہ کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کا مقصد فوری طور پر معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ بچت کرنا اور اضافی وسائل اکٹھے کرنا ہے۔ حکومت ان بچتوں اور قومی خزانے سے کچھ رقم استعمال کرکے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو سبسڈی دے گی تاکہ آئندہ اگر قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو تو اسے کم سے کم رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافے سے عوام پر اچانک بڑا بوجھ پڑا ہے، اس لیے حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ دنوں میں قیمتوں میں اسی شدت سے اضافہ نہ کرنا پڑے اور عوام کو ممکن حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔











