امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی میں طویل رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے۔ اس اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ پیر کو قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھیں۔
سعودی وقت کے مطابق 2 اہم بینچ مارکس، برینٹ فیوچرز 6.28 ڈالر یا 6.35 فیصد کی کمی کے ساتھ 92.68 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 6.24 ڈالر یا 6.58 فیصد کمی کے ساتھ 88.53 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ ابتدائی طور پر دونوں بینچ مارکس 11 فیصد تک گر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ایک لیٹر تیل بھی جانے نہیں دیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی پر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید حملوں کا انتباہ
تیل کی قیمتیں پیر کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جو 2022 کے وسط کے بعد سب سے بلند ترین سطح تھی، کیونکہ سعودی عرب اور دیگر پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے سپلائی میں کمی اور امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے تھے۔
تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ٹرمپ کے درمیان رابطے اور ایران کی جنگ کے جلد حل کے لیے تجاویز کے بعد قیمتوں میں کمی آئی، جس سے سپلائی کی طویل رکاوٹ کے خدشات کم ہوئے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کو مکمل سمجھتے ہیں اور واشنگٹن اپنی ابتدائی 4 سے 5 ہفتوں کی متوقع مدت سے کافی آگے ہے۔
ان کے بیان کے بعد مارکیٹ میں ٹھہراؤ آیا، اور ابتدائی دن کے دوران قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کا رجحان کم ہوا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ برینٹ کے موجودہ سطح پر خطرات ابھی برقرار ہیں، کیونکہ مربان اور دبئی گریڈز ابھی بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تیل سے لدے 3 جہازوں کی آج پاکستان آمد، کیا ان سے تیل کی ضرورت پورا ہوگی اور قیمتیں کم ہوں گی؟
ایران کے اسلامی انقلاب گارڈز نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری رہے تو وہ جنگ کا اختتام خود طے کریں گے اور تہران سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیں گے۔
اس دوران، ٹرمپ روس پر عائد تیل پر پابندیاں نرم کرنے اور ہنگامی خام تیل کے ذخائر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔














