وفاقی حکومت نے وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ کے اقدامات نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول کی فراہمی 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کم کر دی گئی جبکہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی 60 فیصد گاڑیاں اس دوران بند رکھی جائیں گی۔
کابینہ کے ارکان، وزرائے مملکت اور مشیروں نے 2 ماہ کی تنخواہ اور مراعات رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کا اعلان کیا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔
گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران 2 دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے 50 فیصد کٹوتی، کابینہ ارکان کی تنخواہ بند، وزیراعظم کا کفایت شعاری منصوبے کا اعلان
حکومت نے مالی سال کی آخری سہ ماہی میں سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر جون 2026 تک مکمل پابندی برقرار رہے گی اور وزرا و افسران کے غیر ضروری بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تمام سرکاری وفود اب لازمی طور پر اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ سرکاری اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے اور فزیکل میٹنگز کو محدود کیا جائے گا۔
تعلیمی اداروں میں سولہ مارچ سے 31 مارچ تک اسپرنگ تعطیلات ہوں گی اور کالجز و یونیورسٹیوں میں 100 فیصد آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کتنے مؤثر، معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
موٹرویز اور ہائی ویز پر رفتار کی حد کم کر دی گئی ہے جبکہ شادی ہالز میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود کر دی گئی ہے اور ایک ڈش کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
وفاقی اور صوبائی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کے لیے باری باری ورک فرام ہوم نافذ کیا جائے گا، تاہم بینکنگ اور ضروری سروسز پر 4 روزہ ورک ویک لاگو نہیں ہوگا۔
نجی شعبے کو بھی 50 فیصد ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم اور 4 روزہ ورک ویک اپنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز کے انعقاد کے لیے کمیٹی کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی اور سرکاری تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم یا ہال استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ پالیسی جاری رکھی جائے گی، تاہم یہ اقدامات بینکنگ، صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہیں ہوں گے۔














