وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں آزادی اظہار رائے یقینی بنائی گئی ہے، تاہم اس میں کچھ آئینی حدود و قیود بھی ہیں اور خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایسے میں خلاف آئین بات کرنے پر اگر ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہے تو اسے بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، ہمیں خارجہ معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: قطر ایران کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں، ترجمان وزارت خارجہ
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حالیہ تنازع کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم سب آئین کے پابند ہیں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے قانون کو مدنظر رکھنا چاہیے اور اپنی ریاست پر اعتماد کرنا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خبریں شائع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، البتہ منفی تبصرہ کرنا غلط ہے۔ اگر کوئی اس ریڈ لائن کو عبور کرنے کی کوشش کرے تو قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص، چاہے باہر بیٹھا ہو، پاکستان کے قانون کا احترام اس کے لیے لازم ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں وزارت خارجہ کے موقف کو اہمیت دینی چاہیے۔ ویوز کے حصول کے لیے وی لاگ میں خارجہ معاملات پر بات کرنا اور سنسنی پھیلانا غلط رواج ہے، پاکستان کی کوشش ہے کہ متوازن موقف قائم رکھا جائے اور برادر اسلامی ممالک سے اچھے تعلقات ہو۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ خطہ جنگی صورتحال میں مبتلا ہے، ایسے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا ضروری ہے۔














