سپریم کورٹ کے وکیل ذوالفقار احمد بھٹہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت عوام کی جیبوں سے اندازاً 120 ارب روپے نکال سکتی ہے، جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے لیے اضافی بوجھ بنے گا۔ درخواست گزار کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں اور یہ اقدام عوام کے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کے اثرات: بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی 300 روپے لیٹر تک جا پہنچی
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت استحصال کی ممانعت ہے، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق 6 مارچ کو حکومت نے اچانک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت حکومت کے پاس پٹرولیم مصنوعات کے کئی ہفتوں کے قابل استعمال ذخائر موجود ہیں اور تیل کی ترسیل کے راستے بھی کھلے ہیں، اس لیے قیمتوں میں اضافے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو ہدایت جاری کی جائے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے۔














