13 جون 2025 کو اسرائیل ایران میں جنگ لگی تھی۔ یہ جنگ بارہ دن جاری رہی اور 24 جون کو ختم ہوئی تھی۔ اس جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے صرف جون کے ہی 6 دن میں 4 لاکھ 10 ہزار افغان مہاجرین کو ایران سے نکال دیا تھا۔ سنہ 2025 میں 15 لاکھ افغان ایران سے جبری یا اپنی مرضی سے واپس افغانستان واپس آئے تھے ۔ ایران نے سال 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 4 ملین افغانوں کو ایران سے نکال دے گا۔
ایران میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق اب 3 سے 4 ملین افغان موجود ہیں۔ ایران میں موجود افغانوں کی اکثریت کا تعلق تاجک 46 فیصد، پشتون 26 فیصد، ہزارہ 11 فیصد، ازبک 8 فیصد اور دیگر نسلی گروہ 9 فیصد (بلوچ ، ترکمن ، ایمک) شامل ہیں۔ ایران میں موجود افغانوں کا تعلق زیادہ تر افغانستان کے نان پشتون علاقوں ہرات، فرح، کابل، کندوز، تخار اور سینٹرل افغانستان کے نان پشتون علاقوں سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی نظروں میں اب ہمارا بھارت کتنا مہان رہ سکے گا
ہزارہ افغان جو عقائد کے اعتبار سے شیعہ ہیں، ایک وقت میں یہ ایران میں موجود افغانوں کا 40 فیصد تک تھے۔ اب ان کی تعداد کم ہو چکی ہے۔ ایران میں افغان پشتون کبھی بھی افغان مہاجرین کا 10 فیصد نہیں رہے اب ان کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ یہ فگرز یو این ایچ سی آر، ایرانی حکومت، واپس آنے والے افغانوں کی گنتی اور اندازوں پر مشتمل ہیں ۔ ایران میں موجود افغان مہاجروں کی بہت بڑی اکثریت افغان طالبان کی مخالف ہے۔
افغان وزارت دفاع نے سنہ 2025 میں اپنی فائٹ فورس کی تعداد ایک لاکھ بتائی تھی۔ جسے 2 لاکھ تک بڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مختلف مانیٹرنگ ادارے اس وقت افغان طالبان کے پاس فل ٹائم فائٹر کی تعداد 70 ہزار کے قریب بتاتے ہیں۔ جز وقتی کام کرنے والی ملیشیا کی تعداد کا اندازہ 90 ہزار تک لگایا جاتا ہے۔ افغان طالبان نے اپنی فورس کو 8 کور میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان 8 میں سے 3 کور کلی طور پر اور ایک جزوی طور پر پاکستان کے باڈر کے ساتھ تعینات ہیں۔
پاکستان کے باڈر کے ساتھ جنگ کے حالات میں بھی افغان طالبان نے اپنی فائٹ فورس کا 40 سے 60 فیصد تک ہی تعینات کر رکھا ہے۔ باقی فورسز کو نان پشتون ایریا، سنٹرل ایشیا کے ملکوں اور ایرانی سرحد کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے۔ اس تعیناتی اور احتیاط کی وجہ نان پشتون علاقوں میں کسی غیر متوقع مسلح تحریک ابھرنے کے خدشات ہیں۔ اب ایران سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی واپسی متوقع ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور
آنے والے افغان مہاجرین کو سنبھالنے کی افغان طالبان میں نہ صلاحیت ہے نہ سکت۔ صلاحیت اور سکت کا یہ فقدان فنڈنگ کے مسائل کی وجہ سے بھی ہے۔ یو این کا سب سے بڑا امدادی مشن اس وقت افغانستان میں کام کر رہا ہے۔ اس مشن پر شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہے کہ سب سے بڑے مشن کی موجودگی اور امداد کی فراہمی کے باوجود طالبان خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندی ہٹانے کو تیار نہیں ہیں۔
امریکی سینیٹ کی فارن افیئر کمیٹی نے ’نو ٹیکس ڈالرز فار ٹیررسٹس ایکٹ‘ نامی بل کی منظوری دی ہے۔ بل کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر طالبان یا افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ افغان طالبان سنہ 2021 میں واپسی کے بعد سے امداد کی مد میں 10.72 ارب ڈالر وصول کر چکے ہیں۔ اس میں 3.83 ارب ڈالر امریکی ٹیکس دہندگان کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔
امریکی واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ ان امدادی رقوم کا 70 فیصد طالبان نے اپنا انتظامی کنٹرول بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ نے اپنے تازہ بیان میں افغان طالبان کو دہشتگردی کے حربے استعمال کر کے فوائد اور فیور لینے والی حکومت قرار دیا ہے۔ افغان طالبان حکومت کی امداد روکنے کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ افغانستان میں رجیم چینج کی باتیں بہت کی جاتی ہیں۔ ایسی باتیں جب ہوتی ہیں تو پاکستان کی جانب دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کبھی بھی رجیم چینج کی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا جب تک افغان طالبان کی فنڈنگ پر کٹ لگانے کی واضح کوشش دکھائی نہیں دے گی۔
افغان طالبان کو صورتحال کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ تب ہی تو وہ پاکستان سے تعلقات بحال کرنے کے لیے جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق تک کی میزبانی کرتے دکھائی دیتے ہیں جو سیاست میں اب سرگرم ہی نہیں ہیں۔ افغان طالبان کو خدشہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہت بہتر کیے ہیں۔ دونوں ملکوں کی پالیسی افغانستان کے حوالے سے ملتی جلتی ہی ہے۔
مزید پڑھیں: روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان
افغانستان کے شیعہ ہزارہ اور دری بولنے والی آبادی پر ایران کا خاصا اثر ہے۔ جنگ کی وجہ سے بڑی تعداد میں ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی متوقع ہے۔ اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنا اور مطمئن کرنا بہت وسائل رکھنے والی حکومت کے لیے بھی آسان نہیں۔ مہاجرین کی آمد افغانستان میں بے چینی بہت بڑھا دے گی۔ پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ، سر اٹھاتی طالبان مخالف اپوزیشن افغان طالبان کی حکومت کے لیے بہت سنجیدہ مسائل اور چیلنج کھڑے کر دے گی۔ ایسے میں طالبان نے اپنے سخت گیر انداز سے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی تو گیم ان کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












