مصنوعی ذہانت جہاں علاج اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے، وہیں اب کھیلوں کی دنیا میں بھی روایتی کوچنگ نظام کو چیلنج کرنے لگی ہے۔ یوکرین کے بائیاتھلون کھلاڑی میکسیم موراشکوفسکی نے جاری سرمائی پیرا اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد اپنی کامیابی کا کریڈٹ چیٹ جی پی ٹی کو دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا
موراشکوفسکی نے اتوار کو مردوں کے انفرادی بصارت سے محروم بائیاتھلون مقابلے میں تمغہ حاصل کیا۔ 2026 کے سرمائی پیرا اولمپکس میں یہ ان کی پہلی شرکت ہے۔ اس سے قبل وہ مردوں کے اسپرنٹ مقابلے میں ساتویں نمبر پر رہے تھے، جبکہ انہیں مزید تین مقابلوں میں شرکت کا موقع حاصل ہے۔
25 سالہ ایتھلیٹ نے فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ سے وہ اپنی تربیت میں چیٹ جی پی ٹی کی مدد لے رہے تھے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت نے نہ صرف حکمت عملی بنانے میں مدد دی بلکہ تربیتی منصوبہ، حوصلہ افزائی اور ذہنی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسے ماہر نفسیات، کوچ اور بعض اوقات ڈاکٹر کے طور پر بھی استعمال کیا۔
موراشکوفسکی کا کہنا تھا کہ وہ روایتی انسانی تربیت سے آگے بڑھ کر جدید طریقوں کو آزمانا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے مصنوعی ذہانت کو اپنی تربیت کا حصہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے جس پر وہ مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا مستقبل: 2026 میں سامنے آنے والے اہم رجحانات
کھیلوں کے ماہرین کے درمیان اب یہ بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت مستقبل میں کوچز کی ملازمتوں کو متاثر کرے گی۔ تاہم یوکرینی کھلاڑی کا کہنا ہے کہ اگلے 5 سے 10 سال میں کوچز مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوں گے، البتہ کوچنگ کے کچھ پہلوؤں میں مصنوعی ذہانت ضرور شامل ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ موراشکوفسکی اس سے قبل 2023 کی عالمی چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں اور عالمی کپ مقابلوں میں بھی متعدد اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔














