ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد پاکستان میں ممکنہ تیل کی قلت پر قابو پانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں نے بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لیٹر تیل بھی جانے نہیں دیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی پر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید حملوں کا انتباہ
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ تیل کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ 2 ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کے تیل کے استعمال میں 50 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اراکینِ پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔ آئندہ 2 ماہ کے لیے حکومت کے وزرا، مشیران اور معاونینِ خصوصی تنخواہیں نہیں لیں گے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور خصوصی اقدامات کی ہدایت کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی مخالف جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے بھی کفایت شعاری اقدامات کے ساتھ عوامی ریلیف کا اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کتنے مختلف ہیں؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناانصافی قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ تیل کی قیمتوں کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈالنا ظلم ہے۔
مزید پڑھیے: تیل سے لدے 3 جہازوں کی آج پاکستان آمد، کیا ان سے تیل کی ضرورت پورا ہوگی اور قیمتیں کم ہوں گی؟
سہیل آفریدی نے اپنی حکومت کی جانب سے صوبے کے غریب طبقے کو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر ریلیف دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کی حکومت موٹر سائیکل والوں کو پیٹرول ریلیف دے گی۔
سہیل آفریدی کی جانب سے کیش ریلیف کا اعلان وفاق اور دیگر صوبوں کی نسبت مختلف ہے۔ کے پی حکومت کے مطابق صوبائی حکومت پیٹرول ریلیف رجسٹرڈ موٹر سائیکل والوں کو دے گی۔ سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی حکومت مجموعی طور پر فی موٹر سائیکل 2200 روپے کا ریلیف دے گی جو 2 اقساط میں دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 1100 روپے کی پہلی قسط فوراً جبکہ باقی 1100 روپے بعد میں دیے جائیں گے۔ جبکہ وفاق، پنجاب یا دیگر صوبوں نے کسی قسم کے کیش ریلیف کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تعلیمی ادارے ہفتے میں 3 دن بند رہیں گے
وفاق اور دیگر صوبوں نے بھی تیل بچت اقدامات کے تحت تعلیمی اداروں کو ہفتے میں مزید 2 دن یعنی جمعہ اور ہفتہ بند رکھنے کا اعلامیہ جاری کیا ہے۔ جبکہ وفاق اور پنجاب میں 2 ہفتوں کے لیے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا نے ابھی تک تعلیمی اداروں کو زیادہ عرصے کے لیے بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ ہوا پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات کا انتباہ
صوبائی حکومت کے مطابق تعلیمی ادارے ہفتے میں 4 دن معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے 10 مارچ سے 31 مارچ تک تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری فیول میں وفاق میں 50 جبکہ خیبرپختونخوا میں 25 فیصد کمی
وفاق نے سرکاری محکموں میں فیول کے استعمال میں 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کابینہ نے سرکاری فیول میں 25 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق خیبر پختونخوا میں کورونا کے دوران پہلے ہی 25 فیصد کمی کی گئی تھی اور اب مزید 25 فیصد کمی کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی 50 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔
کابینہ اراکین، ممبران اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی
وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اور بچت کے تحت اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریڈ 20 سے اوپر کے سرکاری افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے ان کی 2 دن کی تنخواہ کی کٹوتی کرکے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ جبکہ 2 ماہ تک کابینہ ممبران تنخواہ نہیں لیں گے۔ تاہم خیبر پختونخوا، پنجاب اور دیگر صوبوں نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے اور صوبوں میں کابینہ ممبران، سرکاری افسران اور اراکین کی تنخواہوں میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔
سرکاری دفاتر میں حاضری
سرکاری دفاتر میں حاضری کے حوالے سے تمام صوبوں نے وفاق کی ہدایت کے مطابق فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سرکاری دفاتر میں 50 فیصد حاضری ہوگی جبکہ باقی اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔ تقریبات اور افطار پارٹیوں پر پابندی ہوگی۔
جنگی صورت حال کے دوران کفایت شعاری اور تیل بچت اقدامات کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کیش ریلیف کو سراہا جا رہا ہے جس سے 15 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
دوسری جانب تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے فیصلے پر اسکول مالکان کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کورونا کے دوران اسکول بند کیے گئے تھے جس سے بچوں کو نقصان ہوا اور اب دوبارہ سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔













