افغانستان میں طالبان کی سپریم کورٹ نے ایک خاتون کو گھر سے فرار ہونے کے الزام میں کوڑوں کی سزا سناتے ہوئے کئی سال قید کی سزا بھی دے دی۔ طالبان حکام کے مطابق سزا عوام اور مقامی حکام کی موجودگی میں نافذ کی گئی۔
💥🇦🇫 In Afghanistan Ghor,Taliban supreme court sentenced 39 lashes each for the woman and a man who committed adultery (Zina). pic.twitter.com/JjIJrJgk7w
— International Observer (@Intlobserver0) February 24, 2026
طالبان سپریم کورٹ کے بیان کے مطابق صوبہ زابل میں ایک خاتون اور ایک مرد کو ’گھر سے فرار‘ ہونے کے الزام میں 39، 39 کوڑے مارے گئے اور دونوں کو 4 سے 5سال قید کی سزا سنائی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سزا بدھ 11 مارچ کو مقامی حکام اور عوام کی موجودگی میں نافذ کی گئی۔ طالبان کے مطابق یہ اقدامات ان عدالتوں کے فیصلوں کے تحت کیے گئے جو ان کے بقول اسلامی قانون کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت
اسی روز صوبہ بدخشاں میں 3 افراد کو شراب فروخت اور اس کی نقل و حمل کے الزام میں 39 کوڑے مارنے کے ساتھ 2 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق 2024 کے بعد سے طالبان مختلف الزامات کے تحت 2000 سے زائد افراد کو سرعام کوڑے مار چکے ہیں، جن میں 291 خواتین بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس قسم کی جسمانی سزاؤں اور سرعام کوڑے مارنے کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں، تاہم طالبان ان اقدامات کو اسلامی قانون کے نفاذ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔














