وزیر اعظم شہباز شریف آج سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں، جن کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ہیں۔ دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے جلد خاتمے کے لیے کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف چند گھنٹوں کے ہنگامی دورے پر سعودی عرب روانہ
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جانب سے سعودی عرب، قطر، بحرین اور یو اے ای پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پاکستان بین الاقوامی قانون، مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دیتا رہا ہے اور یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کی شہادت پر غمزدہ ہے جبکہ ان کی باڈیز وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ایران سے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سے فون پر بات کی، جبکہ نائب وزیراعظم نے 3 بار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ ایران اور بھارتی تیل بردار جہازوں کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا معاملہ 2 خودمختار ممالک کے درمیان ہے اور پاکستانی جہازوں کے حوالے سے معلومات نیول آپریشنز تک محدود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی انگیجمنٹ پالیسی کے 3 بنیادی نکات ہیں، بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد، ممالک کی خودمختاری کا احترام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا۔ یہ پالیسی پاکستان کو عرب ممالک اور ایران کے درمیان بات چیت کے قابل بناتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور دہشتگردانہ حملوں کے سلسلے پر پاکستانی سویلین اور فوج کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 منظور، سعودی عرب کا ایران کے حملوں کی مذمت پر خیرمقدم
مزید بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ پاکستانی جہازوں کے گزرنے پر بات چیت جاری ہے، یمن کے حوالے سے صورتحال مختلف ہے، اور افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی موجودہ معاہدہ نہیں ہے۔ ایرانی سرحد پر مہاجرین اور شرپسندوں کی آمد کے خدشات موجود ہیں اور سرحدی ادارے الرٹ ہیں۔
ترجمان نے اسرائیل کے فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ بند کرنا مایوس کن ہے۔














