ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر اعتماد میں نہیں لیا تاہم اس ضمن میں پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے فوری طورپر وفاقی حکومت سے راہیں جدا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان ایم کیو ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں گورنر سندھ کی تبدیلی کا علم ذرائع ابلاغ سےہوا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کو اس فیصلے پراعتماد میں نہیں لیاگیا اور ایم کیو ایم پاکستان اس فیصلے پر جلد اپنالائحہ عمل طے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نہال ہاشمی گورنر سندھ مقرر، وزیراعظم کی طرف سے مبارکباد
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر سندھ کی تبدیلی کے معاملے پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو گورنری کے آئینی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم اس وقت مسلم لیگ ن کی حلیف جماعت ہے اور روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم پاکستان کا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس روایت اور اتحادی سیاست کے اصولوں کے باوجود گورنر سندھ کی تبدیلی سے متعلق یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے فیصلے کیے جائیں تو پارٹی کے لیے حکومت میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
مزید پڑھیں: صوبہ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی کون ہیں؟
ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کو اس صورتحال میں فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو جانا چاہیے۔
ایم کیو ایم رہنما کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں گورنر سندھ کی تبدیلی اور اتحادی سیاست کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر ان کی جگہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کیا ہے.
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سمری منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھجوا دی ہے۔














