دنیا بھر کے ماہرینِ ریاضی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل قریب میں ریاضی کے شعبے میں تاریخی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، جہاں پیچیدہ مسائل کے حل اور تحقیقی طریقہ کار تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جو شعبہ کبھی پیچیدہ علامتوں اور طویل حسابی عمل تک محدود سمجھا جاتا تھا، اب اے آئی ٹولز کی مدد سے نئی سمت اختیار کررہا ہے۔ سائنسدان بڑے لینگویج ماڈلز کو پروف اسسٹنٹس کے ساتھ ملا کر نہ صرف نئے نظریات تشکیل دے رہے ہیں بلکہ پیچیدہ تھیورمز کی درستگی بھی زیادہ مؤثر انداز میں جانچ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب تعلیمی اداروں میں اے آئی ٹیچرز بھرتی کیے جائیں گے؟
ماضی میں ریاضی دان عموماً چھوٹے گروپوں یا انفرادی طور پر طویل وقت تک بلیک بورڈ پر کام کرتے تھے، کیونکہ اس شعبے میں گہری توجہ اور بنیادی علم کی مضبوط بنیاد ضروری سمجھی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں اے آئی ٹولز زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکے تھے، کیونکہ وہ مسودے تو تیار کر لیتے تھے مگر ریاضی کے سخت منطقی معیار کے مطابق ہر قدم کی تصدیق نہیں کر پاتے تھے۔
اب صورت حال بدل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید لینگویج ماڈلز کو Lean اور Coq جیسے پروف اسسٹنٹس کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، جس سے اے آئی نظام خودکار انداز میں منطقی مراحل کا جائزہ لے کر حل تلاش کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ اس امتزاج سے رسمی ریاضیاتی ثبوت تیار کرنے میں لگنے والا وقت اور محنت نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روبوٹس کو کھا کر طاقت بڑھانے والا نیا روبوٹ، کہیں اس کا اگلا شکار انسان تو نہیں؟
تحقیق کار اس مشترکہ انسانی اور مصنوعی ذہانت کے نظام کو مختلف ریاضیاتی مسائل پر آزما رہے ہیں، جن میں معروف ریاضی دان پال ایرڈوش کے پیش کردہ سادہ اور پیچیدہ مسائل بھی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خصوصاً نوجوان محققین کو تحقیق میں ابتدائی برتری فراہم کر سکتی ہے اور ریاضی کے میدان میں نئی دریافتوں کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔














