امریکا نے افغانستان میں تقریباً 12 سال سے لاپتا اپنے شہری پال ایڈون اووربی کی بازیابی یا اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مصنف اور محقق اووربی 2014 میں افغانستان کے صوبہ خوست میں آخری بار دیکھا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹل سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق امریکی شہری پال ایڈون اووربی جونیئر تقریباً 12 سال قبل افغانستان میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اووربی کو آخری بار افغانستان کے صوبہ خوست کے شہر خوست میں مئی 2014 کے وسط میں دیکھا گیا تھا۔
ایف بی آئی کے مطابق پال اووربی ایک مصنف اور محقق تھے اور وہ اس علاقے میں ایک کتاب کے لیے تحقیق کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان کی جانب سفر کر رہے تھے جب وہ لاپتا ہو گئے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ اووربی کی بازیابی یا ان کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر انعام رکھا گیا ہے اور معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
ایف بی آئی نے اس سے پہلے 2018 میں اووربی کے بارے میں معلومات دینے پر 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے کئی مرتبہ عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی۔ بعد ازاں مئی 2025 میں انعامی رقم بڑھا کر 50 لاکھ ڈالر کر دی گئی، تاہم اس اعلان کو حالیہ دنوں میں میڈیا میں زیادہ توجہ ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی، چین نے بھی تحفظات کا اظہار کردیا
امریکی میڈیا کے مطابق کچھ رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اووربی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ان کی گمشدگی کے حالات اب تک واضح نہیں ہو سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت پر امریکی شہریوں کی مبینہ حراست کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات زیر حراست افراد کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاہم طالبان حکام اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔














