ریڈیو پاکستان حملہ کیس: کے پی پولیس کی جانب سے سہیل آفریدی کی نامزدگی، پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعلی پریشان کیوں؟

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مئی 2023 کے ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے اور توڑ پھوڑ کیس میں ایک اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا پولیس نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز انسدادِ دہشتگردی عدالت نمبر 111 کے سامنے ریڈیو پاکستان حملہ و توڑ پھوڑ کیس کی سماعت ہوئی جس میں کیس کے تفتیشی افسر بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ریڈیو پاکستان پشاور کا گیٹ 9 ہزار روپے میں فروخت کرنے والا مرکزی ملزم گرفتار

باخبر ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے فرانزک اور نادرا کی رپورٹ کی بنیاد پر 5 اور افراد کو اس کیس میں نامزد کیا ہے۔ جن میں خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیر تیمور جھگڑا، کامران بنگش، صوبائی رہنما عرفان سلیم اور ایک پارٹی رکن شامل ہیں۔

تاہم تفتیشی افسر کی جانب سے نامزدگی کے باوجود استغاثہ نے اب تک اس واقعے کے جاری مقدمے میں سہیل آفریدی سمیت دیگر 5 ملزمان کو نامزد کرنے کے لیے انسدادِ دہشتگردی عدالت میں چالان جمع نہیں کروایا۔ جس کے لیے عدالت نے 17 مارچ کو سماعت کے دوران رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی۔

جبکہ ریڈیو پاکستان کے وکیل نے عدالت میں درخواست دی ہے کہ استغاثہ کو چالان جمع کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کیس میں پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، ایم پی اے فضل الٰہی، ایم این اے آصف خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنما نامزد ہیں اور ضمانت پر ہیں۔

جبکہ پولیس نے ویڈیوز کی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے تصدیق کروائی تھی جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، کامران بنگش سمیت 5 افراد کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:ریڈیو پاکستان پشاور کی نشریات بحال کر دی گئیں

ریڈیو پاکستان کیس میں حالیہ پیشرفت اور پولیس کی جانب سے اپنے وزیراعلیٰ کو کیس میں نامزد کرنے کے واقعے نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان حملہ کیا ہے اور کیا وزیراعلیٰ کی کرسی کو خطرہ ہے؟

سینیئر قانون دان اور ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ریڈیو پاکستان حملہ کیس ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس نوعیت کا کیس ہے، جو اس وقت انسدادِ دہشتگردی عدالت پشاور میں زیر سماعت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کیس کا انحصار شواہد پر ہوتا ہے اور عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس مئی 2023 کا ہے اور اس میں اب بھی تفتیش کا عمل جاری ہے۔

PTI protesters burned radio pakistan peshawar buidling

اب جو حالیہ فرانزک رپورٹ آئی ہے یہ اہم شواہد ہیں، اس میں ملزمان کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ پہلے ویڈیوز کی اہمیت کم ہوتی تھی لیکن اب ویڈیوز کو اہم شواہد تصور کیا جاتا ہے اور ویڈیوز کی بنیاد پر سزائیں بھی ہوئی ہیں۔

آپ نور مقدم کیس کو دیکھیں تو اس میں سزا صرف ویڈیو شواہد کی بنیاد پر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ریڈیو پاکستان کیس، سہیل آفریدی کی ویڈیو میں موجودگی کی تصدیق، مقدمے میں نامزدگی پر غور

شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں ویڈیوز کی فرانزک رپورٹ نے اس کیس کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی اس سرکاری اور اہم تاریخی عمارت پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی، اسے سزا ہو تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اس کیس کی وجہ سے سہیل آفریدی کی نااہلی کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص جسے سزا ہو جائے وہ کسی بھی عہدے کے لیے نااہل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں انسدادِ دہشتگردی، توڑ پھوڑ، سرکاری عمارت پر حملہ سمیت دیگر دفعات لگائی گئی ہیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کیس سے پی ٹی آئی قیادت کیوں پریشان؟

ریڈیو پاکستان کیس میں حالیہ پیشرفت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو پریشان کر دیا ہے۔ پارٹی کی قانونی ٹیم نے فرانزک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ جو ویڈیوز دی گئی ہیں اس میں کہیں بھی پتا نہیں چل رہا کہ وہ ریڈیو پاکستان کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے اس حوالے سے حقائق رکھے جائیں گے۔

پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم سے وابستہ ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت کے لیے کیس میں پیشرفت اور وزیراعلیٰ کی نامزدگی حیران کن اور پریشان کن ہے۔

ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ پولیس اپنے ہی وزیراعلیٰ کو ملزم قرار دے گی اور کیس میں نامزد کرے گی، لیکن ایسا ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی نامزدگی سے لگ رہا ہے کہ طاقتور حلقے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس پیشرفت سے سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی ٹیم اور سہیل آفریدی کی ذاتی وکلا ٹیم بھی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ریڈیو پاکستان پر 9 مئی حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ابھی تک اس پیشرفت پر کوئی موقف یا بیان سامنے نہیں آیا، تاہم پی ٹی آئی کے کچھ رہنما سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما، منتخب اراکین اور ایک صوبائی وزیر کا نام بھی شامل ہے، لیکن پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا۔

بھٹو جیسے طاقتور سیاستدان کو ایک جعلی کیس میں پھانسی ہوئی۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ کیس سہیل آفریدی کی کرسی کے لیے کتنا خطرہ بن گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں بھی ایک کیس زیر سماعت ہے جبکہ کچھ اور کیسز میں بھی نامزد ہیں، لیکن وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کچھ دن قبل پولیس لائن پشاور کے دورے کے دوران پولیس کو شاباش دی تھی اور کہا تھا کہ ان کے نام کو جعلی کیس میں نامزد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ پولیس نے غیر قانونی اقدامات سے انکار کیا ہے۔

اس کیس سے پولیس اور وزیراعلیٰ کا امیج بھی خراب ہوا ہے۔ پولیس نے اپنے وزیراعلیٰ کو ملزم قرار دیا، جو جعلی ہے۔ ویڈیوز کہیں اور جرگے کی ہیں۔

کیا سہیل آفریدی پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے؟

ریڈیو پاکستان کیس میں نامزدگی کے بعد تجزیہ کار بھی سہیل آفریدی کی مدت ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف یوسفزئی کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی کی کرسی جا رہی ہے اور ان کا وقت ختم ہونے والا ہے۔

پشاور کے نوجوان صحافی عثمان دانش اس کیس کو شروع دن سے کور کر رہے ہیں اور کیس میں اچانک تیزی اور پیشرفت ان کے لیے حیران کن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری، سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

یہ تقریباً 3 سال پرانا کیس ہے۔ نگران دور میں بھی کچھ خاص پیشرفت نہیں ہوئی، علی امین کے دور میں بھی نہیں، لیکن اب اچانک نئی پیش رفت ہوئی ہے۔

عثمان دانش نے بتایا کہ پولیس نے کیس میں 5 لوگوں کو مزید نامزد کیا ہے لیکن استغاثہ چالان جمع نہیں کر رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فرانزک اور نادرا رپورٹ کے بعد کیس مزید حساس ہو گیا ہے اور سہیل آفریدی کو اگر باقاعدہ نامزد کیا جاتا ہے تو ان کے لیے خطرہ ہو گا۔

عثمان نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس اہم اور سنجیدہ نوعیت کا کیس ہے جو اب تک سست روی کا شکار تھا، لیکن اب ریڈیو پاکستان نے پرائیویٹ وکیل کر کے اس میں تیزی لے آئی ہے۔

جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ سہیل آفریدی کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور اس سے ان کی مشکلات بڑھیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اگلی سماعت پر صورتحال مزید واضح ہو گی کہ پولیس رپورٹ میں وزیراعلیٰ کا نام شامل ہے یا نکال دیا گیا۔ تاہم استغاثہ اس پر کام کر رہی ہے۔

اگر سہیل آفریدی کے نام کو نہیں نکالا گیا تو کیس کی سماعت تیز ہو گی اور وزیراعلیٰ کے پھنسنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور کے شہر قُرح کے آثار، تجارتی اور سماجی رونق کی داستان

مکہ اور مدینہ کے درمیان حرمین ریلوے کی سروسز میں اضافہ، حجاج کی سہولت کے لیے اہم قدم

ڈیجیٹل شناختی کارڈ بھی قانونی طور پر اصل شناختی کارڈ کے برابر ہے، نادرا

کراچی بندرگاہ سے متحدہ عرب امارات کے لیے نئی فیڈر شپنگ سروس شروع

مقبوضہ کشمیر میں تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش، پاکستان کا شدید احتجاج

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے