پیٹرول بچاؤ، الیکٹرک بائیکس چلاؤ: حکومت بلوچستان کی الیکٹرک بائیکس اسکیم سے بائیکس کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

جمعہ 13 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اسکیم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس منصوبے کا مقصد طلبہ و طالبات، ورکنگ وومن اور عام شہریوں کو کم خرچ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ روزمرہ آمد و رفت کو آسان بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت بلوچستان عوام کو جدید اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور الیکٹرک بائیکس اسکیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت طلبہ، ملازمت پیشہ خواتین اور دیگر شہریوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ حاصل کر سکیں۔

حکومت بلوچستان سے الیکٹرک بائیکس حاصل کرنے کا طریقہ کار

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس اسکیم میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق درخواست دہندگان کا انتخاب قرعہ اندازی کے شفاف طریقہ کار کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ صوبے کے تمام اضلاع کے شہری آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ اس طریقہ کار کا مقصد زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک اس سہولت کو پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے آسان اقساط پر الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی، بلوچستان حکومت اور نیشنل بینک کے درمیان معاہدہ

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی الیکٹرک بائیکس ایک مرتبہ چارج ہونے پر 70 سے 100 کلومیٹر تک سفر کر سکیں گی، جو طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور عام شہریوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف شہریوں کو سستی اور قابلِ اعتماد سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ ایندھن کی بچت اور ماحول کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

الیکٹرک لوڈرز متعارف کرانے کی تجویز

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مزید منصوبوں پر بھی غور کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں الیکٹرک لوڈرز متعارف کرانے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ چھوٹے کاروبار اور محنت کش طبقے سے وابستہ افراد کو بھی کم لاگت اور جدید ٹرانسپورٹ فراہم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے ہر گھر کی ضرورت اسکوٹی بنتی کیسے ہے؟

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کو جدید سہولیات کی فراہمی اور صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق الیکٹرک بائیکس اسکیم نہ صرف نوجوانوں اور خواتین کے لیے سفری آسانیاں پیدا کرے گی بلکہ صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کلچر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: کنگ فیصل اسپتال نے کڈنی پیئرڈ ڈونیشن ٹرانسپلانٹس میں عالمی اعزاز حاصل کر لیا

5جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا نیا میدان پاکستان کے لیے کون سے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟

اسلام آباد میں یوم القدس: سیکیورٹی خدشات کے باعث کون سی سڑکیں بند، کون سے راستے کھلے؟

لاڑکانہ، کشمور اور کندھ کوٹ کے سرکاری گوداموں سے 24 ہزار میٹرک ٹن گندم کیسے غائب ہوئی؟

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

روایتوں کے شہر میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت