پاکستانی ماڈل اور ٹیلی ویژن اداکارہ حنا آفریدی ایک بار پھر خبروں میں آگئی ہیں۔ حال ہی میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شادی، نکاح کے مطالبات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ کے بارے میں کھل کر بات کی۔
اداکارہ نے نہ صرف اپنے مؤقف کا دفاع کیا بلکہ مداحوں کے ساتھ پختون قبائل کی ایک دلچسپ شادی کی روایت بھی شیئر کی۔
حنا آفریدی پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ایک معروف اداکارہ اور ماڈل ہیں جنہوں نے مختلف مقبول ڈراموں میں اپنی اداکاری کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں پہلی سی محبت، اکھاڑا، کچا دھاگا اور راجہ رانی شامل ہیں۔ اس وقت وہ گرین انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ غلام بادشاہ سندری میں اپنی اداکاری کے باعث ناظرین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں اور ان کی پرفارمنس کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے 16 جنوری کو تیمور اکبر کے ساتھ شادی کی تھی۔ ان کی شادی کی تقریبات سوشل میڈیا پر کافی وائرل رہیں۔ خاص طور پر نکاح اور ڈھولکی کی تقریبات کی ویڈیوز اور تصاویر نے خوب ٹرینڈ کیا، جبکہ بعض صارفین نے ان کے زیورات اور نکاح کے مطالبات پر تنقید بھی کی۔
حال ہی میں حنا آفریدی ایک شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے اپنی شادی کے حوالے سے ہونے والی ٹرولنگ پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی منفی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان کے مطابق، ’میں نے ان لوگوں پر توجہ نہیں دی جنہوں نے میرے نکاح پر میرے زیورات کو ٹرول کیا۔ یہ ان کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔ میرے پاس ٹرولنگ پڑھنے کا وقت بھی نہیں تھا۔‘
نکاح کے مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے واضح کیا کہ ہر لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نکاح سے پہلے اپنی شرائط اور مطالبات رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور ہر لڑکی کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی لڑکی کو زندگی میں اپنے حق سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
گفتگو کے دوران حنا آفریدی نے پختون قبائل کی ایک دلچسپ اور قدیم شادی کی روایت بھی شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پختون علاقوں میں جب بارات دلہن کے گھر پہنچتی ہے تو لڑکی کے گھر والے دولہے کے قدموں کے قریب فائرنگ کرتے ہیں۔ اس روایت کا مقصد دولہے کی بہادری کو جانچنا ہوتا ہے۔ اگر دولہا اس موقع پر خوفزدہ ہو جائے تو اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔
اداکارہ کی اس گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر نکاح کے حقوق، شادی کی روایات اور ٹرولنگ کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ بہت سے صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ کچھ نے مختلف آراء کا اظہار بھی کیا۔














