بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں وزارت دیہی ترقی کی کارکردگی سے متعلق بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ملک کے دیہی علاقوں میں گیس اور ایندھن کی کمی جیسے مسائل اٹھائے۔
اراکینِ پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا، انہوں نے اس مسئلے کے فوری حل کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے اثرات: بھارت میں سینکڑوں ٹائلز فیکٹریاں بنداور لاکھوں مزدور بیروزگار ہونیکا خطرہ
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن وی۔ سیواداسن نے کہا کہ حکومت نے شمسی اور ہوائی توانائی پر سبسڈی کم کر دی اور لوگوں کو ایل پی جی کنکشن کے استعمال پر مجبور کیا۔
’اب امریکا کی ایران پر جارحیت کے بعد ایل پی جی کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوست ہیں، مگر اس سے بھارت کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔
سیواداسن نے کہا کہ دیہی بھارت میں ہزاروں ہوٹل بند ہو گئے ہیں اور خواتین روتی پھررہی ہیں۔
The petitioners said they were directly facing the consequences of a “severely disrupted” #LPG supply chain in Maharashtra’s #Vidarbha region. “This is causing widespread hardship to consumers across the country," the petition said.
Read more: https://t.co/EYrsJrcvZJ… pic.twitter.com/llidii1Csm
— Scroll.in (@scroll_in) March 13, 2026
عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے نے سوال اٹھایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں، بھارتی حکومت اسرائیل کی مدد کیوں کررہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کو گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سنجے سمگھ نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں 21 کروڑ ایل پی جی کنکشن موجود ہیں، اس مسئلے پر الگ بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورا ملک، چاہے دیہات ہوں یا شہر، ہر محلہ، گیس کے لیے قطاروں میں کھڑا ہے۔

انہوں نے گجرات میں ٹائل فیکٹریوں کی گیس کی کمی کی وجہ سے بندش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پورا ملک گیس کے لیے قطاروں میں ہے، تب وزیراعظم کہاں چھپے ہوئے ہیں، براہ کرم انہیں باہر لایا جائے۔
ڈی ایم کے رہنما تیرچی سیوا نے بھی ایران پر جنگ کے اثرات پرالگ بحث کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے ایندھن کی فراہمی، خاص طور پر قدرتی گیس اور کھانے کی گیس پر بڑا اثر ڈالا ہے۔
مزید پڑھیں: فضائی حدود کی بندش: بھارت کو اب تک کتنے ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا؟
’ہر ریاست فوری اجلاس کر رہی ہے کہ ان مسائل کو کیسے حل کیا جائے۔ ریسٹورنٹس گیس کی کمی کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں، قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور گھریلو خواتین مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، کیا یہ ضروری نہیں کہ پارلیمنٹ اس پر بحث کرے۔‘
سیوا نے مزید کہا کہ لوگ نہیں جانتے کہ آگے کیا ہوگا اور کسی اور ملک میں پیدا ہونے والی اقتصادی کساد بازاری دنیا کے دیگر حصوں پر کیسے اثر ڈالے گی، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایندھن کا بحران دیہی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ڈالے گا۔













