سندھ کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما نہال ہاشمی کو کامران ٹیسوری کی جگہ نیا گورنر سندھ مقرر کر دیا گیا۔ اس تبدیلی نے وفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان میں شدید بے چینی اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صوبہ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی کون ہیں؟
وفاقی حکومت نے حیران کن فیصلے میں کامران ٹیسوری کو ہٹا کر نہال ہاشمی کو سندھ کا 35 واں گورنر تعینات کیا، اور صدر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کی سمری کی منظوری دے دی۔ نہال ہاشمی نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر کیا گیا، جبکہ وسیم اختر نے کہا کہ حکومت کو کم از کم اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ ایم کیو ایم قیادت اب حکومت سے فوری علیحدگی یا احتجاجی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ اور اثرات
سینیئر صحافی ارمان صابر کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کی سرگرمیوں پر تحفظات ظاہر کیے اور مسلم لیگ (ن) سندھ میں سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے نہال ہاشمی کو ترجیح دی۔

سینیئر صحافی بلال احمد کے مطابق وزیراعظم نے ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہ لے کر بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے، تاہم ایم کیو ایم کو گزشتہ برس نومبر میں اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ ٹیسوری کو ہٹایا جائے گا۔
آئندہ لائحہ عمل اور امکانات
ایم کیو ایم اس وقت دو راہے پر کھڑی ہے، حکومت سے فوری علیحدگی یا احتجاج ریکارڈ کرانا لیکن حکومت میں شامل رہنا۔ رابطہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں وفاقی کابینہ سے استعفوں یا حمایت جاری رکھنے پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:نہال ہاشمی گورنر سندھ مقرر، وزیراعظم کی طرف سے مبارکباد
قانونی ماہر عادل خان زئی کے مطابق اگر ایم کیو ایم حکومت چھوڑتی ہے تو وفاق میں اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس سے دیگر مخالف قوتوں کو فائدہ ہوگا۔ سینیئر صحافی فاروق سمیع کے مطابق امکان یہی ہے کہ ن لیگ اعلیٰ سطح کا وفد کراچی آ کر ایم کیو ایم کو قائل کرے گا اور موجودہ صورتحال میں وزارتیں چھوڑنے کا امکان کم ہے۔














