’مائی کوں ڈیڈھ جن نے پکڑا ہوا ہے جو کسی پیر کو نہیں مانتا سوائے گاجی شاہ کے۔ اس لیے اس مائی کو ہر ماہ پاری خمیس (نوچندی جمعرات) پر اس درگاہ پر لانا ہوگا۔ اگر یہ شرطیں قبول کرو تو فقیر (جن) گاجی شاہ کا پیالہ قبول کرکے چلا جائے گا۔ اللہ تو ہار‘۔
مہندی رنگی داڑھی والا فقیر (عامل) بڑے اعتماد کے ساتھ، اس خاتون کے رشتہ داروں کو شیشے میں اتار رہا تھا جو اس کے ’حلقے‘ میں سرود وساز کی دھن پر آپے سے باہر ہوکر جھوم رہی تھی اور بار بار خود کو پختہ فرش پر پٹخ رہی تھی۔ خاتون کی ماں اس کے پیچھے بیٹھی، اسے سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی مگر مسلسل ناکام ہو رہی تھی۔ فقیر کے اس حلقے کے چاروں طرف بلوچ اور سندھی تماشائی گھیرا کیے کھڑے تھے۔
جہاں وہ عورت اپنی مستی میں سازوں پر خود کو پٹخ پٹخ کر جھوم رہی تھی، وہاں قریب ہی گیس کا ہندولہ روشن تھا، جس کی آف وائٹ روشنی میں خود سے بے پروا اس جھومتی عورت کے لمبے چمکیلے بال لہرا رہے تھے۔ جب وہ جھوم جھوم کر گردن زمین پر ڈالتی تو اس کی قمیص پر ٹنکے گول شیشے، روشنی کو کرنوں کی طرح ہر جانب منعکس ہونے لگتے تھے اور اس طرح تماشائیوں کے نیم دھندلے چہروں پر ’لیزر شو‘ کی طرح روشنی کے تار پڑتے اور بکھرتے جاتے تھے۔ اس ’پِڑ‘ یا حلقے سے لے کر، اسی طرح کے دوسرے حلقے کے درمیان جو زمین کا خالی قطعہ تھا، اس پر اندھیرے کا راج تھا اور وہاں بستر بچھا کر سونے والے کسی کنبے کے بچے آپس میں گڈمڈ ہورہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان
گاجی شاہ کی یہ درگاہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں کاچھو کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے، جس پر ہندی مہینے مانگھ کی 25 تا 27 تاریخ کو دیہاتی طرز کا بڑا میلہ لگتا ہے۔ یہ میلہ عیسوی یا اسلامی کیلنڈر کے مطابق نہیں لگتا، اس لیے کبھی فروری تو کبھی مارچ میں ہوتا ہے۔ اس میلے میں سندھ، پنجاب (بلوچ اور سرائیکی) اور بلوچستان سے لوگ اپنے کنبوں سمیت آکر شرکت کرتے ہیں۔ ان کنبوں میں عموماً کوئی نوجوان لڑکی یا خاتون ’آسیب زدہ‘ ہوتی ہے، جس کا اصرار ہوتا ہے کہ اسے پیر گاجی شاہ کے میلے میں لے جایا جائے، جہاں وہ کسی ’عامل فقیر‘ کے سرود بجانے پر موج کرے گی۔ موج سے مراد یہ ہے کہ اسے ’حال‘ آجائے گا اور عامل اس لڑکی پر مسلط ’جِن‘ سے اس کی شرائط پوچھ کر اگلے سال کے میلے تک اسے رخصت ہوجانے کی درخواست منوا لیتا ہے۔
درگاہ کے صحن میں ’آسیب زدہ‘ عورتوں کے جن نکالنے کے لیے ایسے درجنوں حلقے یا دائرے قائم تھے۔ ہر حلقے میں فقیر سرود اور دیگر ساز بجا رہے تھے، جن کی دھن پر ایک یا زائد عورتیں مستی اور بے خودی میں جھوم رہی تھیں، اپنا سر پٹخ رہی تھیں۔ میلےمیں آئے ہوئے تماشائی ایسے ہر حلقے کو گھیرے، خاموشی سے یہ عمل دیکھ رہے تھے۔ فقیر یا ’عامل‘ کے سازندوں میں سے ایک سارنگی پر، دوسرا تان پورے پر اور تیسرا مقامی ساز مُتا پر بلوچی اسٹائل کی رزمیہ دھن بجا رہا تھا۔
یہ تماشا گاجی شاہ کے میلے پر ہر سال ہوتا ہے، جس میں زیادہ تر بلوچستان اور پنجاب کے سرائیکی بیلٹ کے مختلف قبائل کے لوگ شرکت کرتے ہیں اور سندھ سے شریک ہونے والے لوگوں میں زیادہ تعداد تماشائیوں یا میلہ دیکھنے والے عادی شائقین پر مشتمل ہوتی ہے۔اس میلے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میلے میں آسیب زدہ (؟) عورتوں کے جن نکالنے کا ’تسلی بخش‘ انتظام ہوتا ہے اور یہ انتظام ان فقیروں کی ٹولیوں کی صورت میں ہوتا ہے، جن میں ایک ’پاڑھا‘ یا پڑھنے والا اور 2-3 اس کے سازندے ساتھی ہوتے ہیں۔ ایسی ٹولیاں مغرب کے بعد اپنے اپنے حلقے بنا کر بیٹھ جاتی ہیں اور متاثرہ عورتوں کے مرد یا بڑی بوڑھیاں ان سے رابطہ کرکے ان کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ یہ فقیر جو زیادہ تر بلوچ ذات کھوسا سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ان غریب کنبوں سے عورت کا ’جن نکالنے‘ کا معاوضہ طے کرکے ساز بجانا شروع کرتے ہیں۔ مذکورہ کنبے کے لوگ متاثرہ عورت یا لڑکی کو لاکر ان کے حلقے میں بٹھاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ سازوں کی مستانہ لے پر جھومنا شروع کردیتی ہے۔ جیسے جیسے سازوں کی لے تیز ہوتی ہے، اس کا جھومنا اور ہلنا بھی تیز ہوتا جاتا ہے اور وہ خود کو زمین پر پٹخنا اور گردن ہلانا تیز کردیتی ہے۔ اس دوران فقیر اور سازندے ’اللہ تو ہار‘ یعنی یا اللہ! تیرا ہی آسرا ہے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جب یہ موج مستی کا سلسلہ اپنے عروج پر آجاتاہے تو ’عامل‘ متاثرہ عورت کے ورثا سے پوچھتا ہے کہ اس لڑکی یا مائی کی یہ کیفیت کب سے ہے اور کیوں ہوئی ہے؟۔
یہ بھی پڑھیں:زمین پر زندگی 2050 میں، ربع صدی بعد ہمارے شہر کیسے ہوں گے؟
وہ لوگ جو ظاہر ہے کہ ان پڑھ اور نہایت ضعیف العقیدہ ہوتے ہیں، وہ اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کی اس لڑکی یا خاتون پر ’جن‘ کا سایہ ہو گیا ہے، اس لیے وہ اپنے آپے میں نہیں رہتی۔ گھر میں بھی وقت بے وقت موج میں آجاتی ہے (یعنی جھومنا، ہلنا اور گھر والوں کو نقصان پہنچانا) شروع کردیتی ہے۔ اب تم اس کے جن سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتا ہے اور کس طرح ہماری لڑکی کی جان چھوڑے گا؟۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی یا عورت عموماً غیر شادی شدہ ہوتی ہے یا پھر اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کی گئی ہوتی ہے، تب اس کے اندر یہ ’جن‘ والا سلسلہ ظاہر ہوتا ہے۔
گھر میں جب اس پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے یا وہ خود پر اس طرح کا ’حال‘ طاری کرتی ہے تو عموماً وہ خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچاتی ہے، اس کی نسائی آواز مردانہ کرخت آواز میں بدل جاتی ہے، وہ اپنے گھر کے لوگوں سے مطالبہ کرتی/ کرتا ہے کہ اسے گاجی شاہ کے میلے پر لے کر جایا جائے ورنہ وہ اس لڑکی (خود) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی/ پہنچائے گا۔۔۔
اس مرحلے پر اس گھر کی بڑی بوڑھیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنی سادگی، ضعیف عقیدے اور خوف کی وجہ سے ’جن آنے‘ کی اس کہانی کو حقیقی سمجھتی ہیں اور مردوں کو بھی قائل کرتی ہیں کہ ’جن‘ (یا فقیر) کی بات مانتے ہوئے لڑکی کو گاجی شاہ کے میلے پر لے کر جانا چاہیے، جہاں کسی ’پاڑھے‘ سے اس پر پڑھوایا اور سرود سنوایا جائے تاکہ ’جن‘ پوری طرح ظاہر ہو، اپنے مطالبات پیش کرے اور لڑکی کی جان چھوڑ دے۔ اس طرح گاجی شاہ کے میلے میں ہر سال درجنوں ’جن زدہ‘ عورتیں اور لڑکیاں اپنے کنبوں کے ساتھ آتی ہیں۔ ان کے وہ مرد جو اُن کو کبھی بے پردہ باہر نکلنے تک نہیں دیتے، وہ اس میلے میں انہیں درجنوں بلکہ سینکڑوں لوگوں کے مجمع میں جھومتے، موج مستی کرتے بے پردہ ہوتے دیکھتے ہیں اور مجبوری میں کچھ نہیں کہتے یا کرتے۔ وہ اگر کرتے ہیں تو صرف اتنا کہ اس جگہ جمع ہوکر تماشا دیکھنے والے غیرمردوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر وہاں سے ٹل جانے کا بولتے ہیں اور ان کی یہ کوشش اکثر کامیاب نہیں ہوتی۔ دوسری جانب جن والی عورت کو اپنے تن من کا کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ سازوں پر بے خود ہوکر مستی میں آئی ہوتی ہے اور کسی پردے یا غیر لوگوں کی موجودگی کا خیال نہیں کرتی۔ اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، بال کھلے ہوتے ہیں اور دوپٹے یا چادر کا اسے کوئی ہوش نہیں ہوتا۔
اس تماشے کے عروج پر عامل فقیر، اس متاثرہ عورت کے ساتھ آئے ہوئے رشتہ داروں، ماں، باپ یا شوہر سے پوچھتا ہے کہ آپ نے کسی جن کے ساتھ زیادتی تو نہیں کر دی کہ اس نے آپ کے گھر میں ڈیرے ڈال دیے ہیں اور اس لڑکی یا عورت پر قابض ہوگیا ہے؟۔
وہ غریب لوگ ایسے ہتھکنڈے کیا جانیں؟ اس لیے ظاہر ہے کہ انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بس کسی طرح تم اس کی جان آزاد کرا دو۔ اس پر وہ بندہ لڑکی سے اس طرح مخاطب ہوتا ہے جیسے اس پر قابض جن سے گفتگو کر رہا ہو:
’ فقیر! اس مائی کو تم نے کیوں پکڑا ہے؟ تم کیا چاہتے ہو؟‘۔
جھومتی جھولتی لڑکی اسی مستی میں مصروف رہتے ہوئے مردانہ آواز میں غراتی ہے:
’اس نے میرے بچوں کو پاؤں تلے کچلا ہے، میں اسے نہیں چھوڑوں گا، اس کی گردن توڑوں گا‘۔
’فقیر! اس بے چاری نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا، تم اسے بخش دو اور جو مطالبہ یا شرط ہے، بتاؤ‘۔
’اس کو چاند کے ہر مہینے کے پہلی جمعرات کو گاجی شاہ کی زیارت کے لیے لے آؤ ۔۔۔ اور اس کی شادی کا خیال دل سے نکال دو، یہ ہم کو پسند آگئی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتوں کی انتخابات میں بڑی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟
ظاہر ہے کہ کوئی بھی غیرت مند فرد اپنے گھر کی کنواری لڑکی کی زبان سے یہ سب نہیں سن سکتا، اس لیے مطالبہ پوچھنے کے وقت اس متاثرہ لڑکی کے گھر سے آئے ہوئے مرد، مجمع کی آڑ لے کر وہاں سے نکل جاتے ہیں تاکہ سب کے سامنے ان کی ذلت نہ ہو۔ ان کی دوسری عورتیں ’عامل‘ کے سامنے گڑگڑاتی ہیں کہ مہربانی کرکے فقیر (جن) سے ہر مہینے کی شرط ختم کرا دو، ہر سال میلے پر ہم اسے یہاں لائیں گے اور شادی بھی وہاں نہیں کرائیں گے، جہاں کے لیے ’فقیر‘ نے اعتراض کیا ہے‘۔
یہ احوال وہ بڑی بوڑھیاں بعد میں اپنے مردوں کو دیتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے جن کی مشکل شرائط ٹلوائی ہیں۔
’عامل‘ اس موقع پر ترمیم شدہ بلکہ تسلیم شدہ مطالبات اپنے طور پر جن کے آگے رکھتا ہے اور ایک طرح سے اس کی منت سماجت کرتا ہے کہ وہ مان جائے۔ جب ’جن‘ کی جانب سے نیم رضامندی ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس سے پوچھتا ہے:
’اب گاجی شاہ کا پیالہ پیو گے؟ ‘
وہ آمادگی ظاہر کرتا ہے تو شَکر کا شربت مٹی کے پیالے میں بھر کر جھومتی ہوئی عورت کے ہونٹوں سے لگایا جاتا ہے جو غٹاغٹ یہ مشروب پی کر بے سدھ گر جاتی ہے۔ اس پر وہ ’عامل‘ کلام مجید کی آیات پڑھ کر اس پر پھونکتا ہے تو وہ آنکھیں پٹپٹا کر اُٹھ بیٹھتی ہے۔ اپنے حلیے پر اس کی نظر جاتی ہے تو ایک دم گھبرا کر اور شرما کر دوپٹہ سر پر لیتی ہے جبکہ اس کی رشتہ دار عورتیں اس کے اوپر بڑی سی چادر اس وقت ڈال چکی ہوتی ہیں، جب وہ پیالہ پی کر بے سدھ ہوجاتی ہے۔
اس طرح یہ سلسلہ اختتام کو پہنچتا ہے۔ فقیر یا عامل کی ٹولی کو اس کا طے شدہ حق محنت ملتا ہے۔ عورتیں اس ’متاثرہ‘ لڑکی کو سہارا دے کر درگاہ کے اس چھپرے کی طرف لے جاتی ہیں جو ایسے ہی کنبوں کی عارضی رہائش کے لیے قائم کیا گیا ہوتا ہے۔ ادھر فقیروں کی ٹولی دوسرے شکار کی تلاش میں سازوں کی ’روں۔۔۔ روں روں۔۔۔‘ شروع کر دیتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













