پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں واقع تاریخی جامع مسجد کو رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے روز بھی بند رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘پاکستان رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے روز سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کرتا ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری، پاک چین تعلقات پر اعتماد کا اظہار،پاکستان دفتر خارجہ کی ہفت وار پریس بریفنگ
بیان میں کہا گیا کہ وادی کی سب سے اہم مساجد میں سے ایک میں عبادت گزاروں کو باجماعت نماز ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد مسلسل 7ویں سال قابض حکام نے مسجد کو سیل رکھا اور کشمیری مسلمانوں کو اس روحانی اہمیت کے حامل دن پر نماز کے اجتماع سے روک دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘خصوصاً مقدس مہینے رمضان المبارک میں مذہبی عبادات پر اس نوعیت کی پابندیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔’
دفترِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دے کہ مقبوضہ وادی میں مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: معروف حریت پسند کشمیری رہنما شبیر شاہ ضمانت پر رہا
اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے میرواعظ اور حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کے دروازے ‘ہر طرف سے بند کر دیے گئے ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘رمضان المبارک کے آخری جمعہ پر جب ہزاروں افراد شہروں اور دیہات سے جامع مسجد سری نگر میں نماز اور دعا کے لیے جمع ہوتے ہیں، اس کے دروازے ایک بار پھر بند کر دیے گئے ہیں۔’
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ جس طرح رمضان کے دوران مسجد الاقصیٰ کے دروازے بند کیے گئے، ویسی ہی تکلیف دہ صورتحال یہاں بھی دیکھی جا رہی ہے۔














