بلوچ رہنما سردار یار محمد رند نے 3 ماہ تک جاری رہنے والی اعصابی کشمکش کے بعد کالعدم تنظیم بی ایل اے کے ہربیار مری گروپ سے رند اور لاشاری قبیلے کے 5 مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا۔
رپورٹس کے مطابق 3 ماہ قبل بی ایل اے نے رند قبیلے کے علاقے سے 5 افراد کو اغوا کرکے ان کے بدلے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
سردار یار محمد رند نے 3 ماہ کی اعصابی جنگ کے بعد BLA کے ہربیار مری گروپ سے 3رند اور 2لاشاری مغویوں کو آزاد کروا لیا 3ماہ قبل BLA نے رند قبیلے کے علاقے سے 5افراد اغوا کر کے تاوان مانگا سردار رند نے تاوان دینے کی بجائے پہاڑوں سے BLA کے 18آدمی اٹھا لئے اور اب اپنے 5بندے رہا کروا لئے pic.twitter.com/xOWa0EKU8c
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) March 14, 2026
مزید پڑھیں: بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا
تاہم سردار یار محمد رند نے تاوان ادا کرنے کے بجائے مختلف اقدامات کیے اور پہاڑی علاقوں سے بی ایل اے کے 18 افراد کو پکڑ لیا۔
بعد ازاں اسی کشیدگی کے نتیجے میں مغوی افراد کی رہائی ممکن ہوئی اور رند قبیلے کے 3 جبکہ لاشاری قبیلے کے 2 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا۔
سردار یار محمد رند کے اقدام پر خوشی، قبائلی نظام عوام کے تحفظ کی ضمانت ہے، سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سردار یار محمد رند کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے بزرگ اور بڑے سردار یار محمد رند کے اس اقدام پر خوشی ہے۔
مجھے اپنے بزرگ اور بڑے سردار یار محمد رند کے اس اقدام پر خوشی ہے بلوچستان کے قبائلی نظام کی یہی طاقت ہے کہ ہمیں اپنی اقوام اور باہوٹ برادر اقوام چاہے وہ بلوچ ہوں یا نہ ہوں ان کا تحفظ کرناہماری زمے داری ہے سردار یار محمد رند نے اپنی قوم کیلئے جو اقدام اٹھایا وہ لائق تحسین ہے… https://t.co/hTwbFMoJRn
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) March 14, 2026
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے قبائلی نظام کی یہی طاقت ہے کہ اپنی اقوام اور باہوٹ برادر اقوام، چاہے وہ بلوچ ہوں یا نہ ہوں، ان کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سردار یار محمد رند نے اپنی قوم کے لیے جو اقدام اٹھایا وہ قابل تحسین ہے اور بلوچستان کے تمام سرداروں اور قبائل کو اس کی تقلید کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات
انہوں نے مزید کہاکہ ایسے اقدامات کے ذریعے ہندوستان کی پراکسی تنظیم بی ایل اے کو بلوچستان میں قدم جمانے کا موقع نہیں ملے گا۔













