قندھار میں تازہ کارروائی، افغان طالبان کی عسکری صلاحیت پر پاکستان کے کاری وار، اب تک کون کون سے اہداف حاصل ہوئے؟

اتوار 15 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کے تحت جوابی کارروائیاں شروع کیں جو فروری کے آخر سے جاری ہیں۔ یاد رہے کہ یہ آپریشن افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحد پار حملوں اور بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج کی جانب سے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور بعض فوجی نوعیت کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ کارروائی انتہائی منصوبہ بندی اور درستگی کے ساتھ کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فضائی حملے میں قندھار میں قائم ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔ یہ سہولیات مبینہ طور پر افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے مواصلاتی اور تکنیکی مدد کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ انفراسٹرکچر دہشتگردوں کی کارروائیوں کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا، جسے نشانہ بنا کر ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سرحد پار دہشتگردی کے ڈھانچے کو کمزور کرنا اور پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کو روکنا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں، ان کے معاون ڈھانچے اور طالبان کی فوجی تنصیبات پر مرکوز ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیانات کے مطابق پاکستان نے کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار اور دیگر صوبوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری، 663 افغان دہشتگرد ہلاک، 249 ٹھکانے تباہ

کابل میں طالبان کے فوجی دفاتر، اسلحہ کے ڈپو اور 313 کور کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔ قندھار میں طالبان کی بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، ایئر فیلڈ کے قریب تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ اور لاجسٹک تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ دہشتگرد کیمپ بھی مکمل طور پر تباہ ہوا۔ پکتیا میں دہشت گرد کیمپ اور سرحدی پوسٹس پر مؤثر حملے کیے گئے۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے آغاز سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان رجیم کے 600 سے زائد کارندے ہلاک اور 800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ 240 سے زائد چیک پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 40 سے زائد پر قبضہ کر کے مسمار کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ 200 سے زائد ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی تباہ ہوئیں۔ پاکستان نے 60 سے 70 مقامات پر فضائی کارروائیاں کیں جو درست انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھیں۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان نے کسی بھی شہری علاقے یا شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف دہشتگردوں اور ان کے فوجی معاون نیٹ ورک کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں خود دفاع کا حق ہیں اور آپریشن اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق: پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ٹھکانے تباہ

افغان طالبان نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم پاکستانی فریق اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاک افغان تنازع ابھی جاری ہے اور دونوں اطراف سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ جبکہ علاقائی امن کے لیے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار خالد نعیم لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائی ایک مضبوط اور مؤثر جواب کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔موجودہ اعداد و شمار اس کی بخوبی افغانستان کے نقصان کا اشارہ کرتے ہیں۔ اور ممکن ہے کہ زمینی صورتحال میں یہ نقصان موجودہ اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہو۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے حقیقی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی کچھ وقت درکار ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال افغان طالبان کی جانب سے کسی باقاعدہ معاہدے یا مذاکرات کی پیشکش سامنے نہیں آئی، تاہم اطلاعات ہیں کہ چائنا ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کروانے کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خالد نعیم لودھی کے مطابق پاکستان کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اگر اس بات پر اتفاق ہو جائے تو دونوں ہمسایہ ممالک پرامن طریقے سے رہ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن ’غضب للحق‘: شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی فضائی کارروائی، متعدد ٹھکانے تباہ

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے اصل نتائج اور اس کی مؤثریت کے بارے میں مزید واضح اندازہ آنے والے وقت میں ہی ہو سکے گا۔

دفاعی تجزیہ کار آصف ہارون کا اس بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے 2021 کے آخر سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہزاروں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کیے ہیں۔ ان کا مقصد انڈو افغان حمایت یافتہ خوارج (دہشتگرد گروہوں) کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا، مگر افسوس کہ دہشتگردی ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید بڑھتی رہی۔

کابل کو بار بار درخواستوں، ثبوتوں اور دھمکیوں کے باوجود تعاون سے انکار رہا۔ افغان حکومت نے دوحہ معاہدے کی کھلے عام خلاف ورزی کی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا۔

آپریشن غضب للحق کا بنیادی اور مرکزی مقصد  تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) کے لیے دستیاب پناہ گاہیں، چھپنے کے ٹھکانے، لانچ پیڈز (حملوں کے آغاز کے مقامات) اور سپلائی لائنز کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔ اس طرح سرحد پار سے آنے والی دہشتگردی کا خطرہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔

صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی تھی کیونکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘، اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘، افغان انٹیلی جنس ’این ڈی ایس‘ اور افغان آرمی کی براہ راست اور بھرپور شمولیت تھی۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کے جنگجو بھی فعال طور پر دہشتگردی میں شریک تھے۔ انڈو افغان اسرائیلی نیٹ ورک پاکستان کے خلاف انتہائی خطرناک منصوبے تیار کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق:افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی موثر کارروائیاں، 527 چیک پوسٹیں تباہ، 38 پر قبضہ

اس لیے پاکستان نے فیصلہ کیا کہ برائی کو ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان کے اندر موجود دہشتگرد بیسز پر براہ راست حملے کیے گئے اور افغان فوج کی دفاعی ساخت کو شدید طور پر کمزور کیا گیا۔

افغانستان امریکا کے دور میں بنائے گئے انتہائی مضبوط فوجی بیسز (خاص طور پر بگرام ایئربیس) اور وہاں چھوڑے گئے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں، سامان اور آلات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔ پاکستان کی کارروائیوں نے افغان فوج کی دفاعی صلاحیت کی کمر توڑ دی ہے۔ اب اسے دوبارہ بحال کرنے اور مرمت کرنے میں بہت لمبا عرصہ اور بہت بڑے وسائل درکار ہوں گے۔

اس کے نتیجے میں کابل کی جانب سے دہشتگردی کی اسپانسرشپ اور پشت پناہی کی صلاحیت بھی شدید متاثر ہو گئی ہے اور مستقبل میں یہ خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کار آصف ہارون نے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کی سرحد پار کاؤنٹر ٹیررازم کارروائیوں پر اعتراض نہیں کر رہا۔ اب اقوام متحدہ، پاکستان کے پڑوسی ممالک اور پوری عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کابل رجیم کو دہشتگرد ریاست قرار دے کر اسے قابو میں لایا جائے تاکہ علاقائی امن قائم ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp