پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن ’غضب للحق‘ میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے، اور پاکستان ایئر فورس نے اہم اہداف کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’غضب للحق‘: افغان طالبان کو بھاری نقصان، پاکستان کی فضائی کارروائیاں جاری
پاکستان نے 12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے آپریشن ‘غضب الحق’ کے تحت کارروائی کی، جس میں 663 شدت پسند ہلاک اور 887 سے زائد زخمی ہوئے۔ آپریشن کے دوران 249 دہشتگرد ٹھکانے تباہ کیے گئے جبکہ 44 اہم پوسٹس پر قبضہ کیا گیا۔
پاک فضائیہ کی فضائی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنیں بھی تباہ کی گئیں، افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے 70 مراکز و سپورٹ انفراسٹرکچر کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان علاقوں میں کابل، پکتیا اور قندھار شامل ہیں، جہاں دہشتگرد کیمپس اور لاجسٹک بیسز کو ہدف بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’غضب للحق‘: افغان طالبان کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا، تفصیلات منظر عام پر آگئیں
حکام نے واضح کیا کہ کارروائی صرف دہشتگرد تنصیبات تک محدود تھی اور کسی بھی قسم کی سویلین آبادی یا شہری انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ یہ موقف افغان حکومت اور میڈیا کے مبالغہ آمیز دعووں کے رد میں پیش کیا گیا ہے۔
آپریشن ‘غضب الحق’ کے دوران حاصل کی گئی معلومات کے مطابق یہ حملے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور افغانستان کے اندر سے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی حمایت کرنے والے مراکز کے خلاف کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں افغان طالبان کے حملے ناکام، 67 شدت پسند ہلاک
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ملکی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کا حصہ ہے اور مستقبل میں بھی دہشتگرد تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔













