پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز فروخت کا دباؤ برقرار رہا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا تھا۔
اس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 4,700 پوائنٹس تک کمی واقع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
بینچ مارک انڈیکس نے نسبتاً مضبوط آغاز کیا اور ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران مختصر طور پر اوپر کی جانب بڑھتے ہوئے انٹرا ڈے بلند ترین سطح 153,943 پوائنٹس تک پہنچ گیا تھا۔
تاہم ابتدائی اضافے کے بعد مارکیٹ کی رفتار کمزور پڑ گئی اور انڈیکس نیچے کی جانب جانے لگا۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -4,687.5 points (-3.05%) and closed at 149,178.7 with trade volume of 153.2 million shares and value at Rs. 17.12 billion. Today's index low was 148,748 and high was 153,944. pic.twitter.com/F3W7GnbR2x— Investify Pakistan (@investifypk) March 16, 2026
دوپہر کے بعد فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے باعث انڈیکس تیزی سے نیچے آیا اور 148,747.72 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک گر گیا۔
اختتامی سیشن میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، تاہم بینچ مارک انڈیکس نمایاں طور پر منفی زون میں ہی رہا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج شدید مندی سے دوچار، انڈیکس میں 11,000 پوائنٹس کی کمی
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 149,178.66 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 4,687.50 پوائنٹس یعنی 3.05 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
فروخت کا دباؤ اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس اور پاور جنریشن شامل ہیں۔

مسلم کمرشل بینک، حبیب بینک، لکی سیمنٹ، انڈس موٹر کمپنی، حب پاور کمپنی اور میزان بینک جیسے انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
ماہرین کے مطابق علاقائی جنگ اور ملکی مالیاتی غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والا خوف سرمایہ کاروں کے فیصلوں کو متاثر کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی کا طوفان، مارکیٹ ہالٹ کا نفاذ
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی کیونکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، ملکی سلامتی کے خدشات اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس سی 100 انڈیکس میں 3,629.92 پوائنٹس کی کمی ہوئی جو 2.3 فیصد بنتی ہے، اور انڈیکس 153,866.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر پیر کے روز ایشیائی مارکیٹس بھی محتاط رہیں کیونکہ خلیج میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہیں، جس سے افراطِ زر کے خدشات بڑھ گئے۔
امکان ہے کہ اس ہفتے بیشتر مرکزی بینک پالیسی اجلاسوں میں شرح سود برقرار رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر اس ہفتے اعلان کر سکتی ہے کہ متعدد ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کے لیے اتحاد بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اگر اتحادی ممالک تعاون نہ کریں تو اس سے نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ثابت ہو سکتا ہے۔














