پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔
کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
صبح 9:20 بجے انڈیکس 3,079.22 پوائنٹس یعنی 1.82 فیصد کمی کے بعد 165,813.86 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت بڑے شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔

اٹک ریفائنری، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
سیکیورٹی صورتحال اور حکومتی بیان
حکومتی اپ ڈیٹس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلااشتعال سرحد پار فائرنگ کے جواب میں فوری اور مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 133 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صبح تقریباً 4 بجے بتایا کہ کارروائیاں کابل، پکتیا اور قندھار میں کی گئیں، جہاں 27 چوکیوں کو تباہ اور 9 پر قبضہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست دباؤ، 100 انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ
انہوں نے مزید کہا کہ دو کور ہیڈ کوارٹرز، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، 3 بٹالین ہیڈکوارٹرز، 2 سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینک، توپخانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں۔
ایک روز قبل زبردست تیزی
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں بحالی دیکھی گئی تھی، جہاں وسیع پیمانے پر خریداری کے باعث بینچ مارک انڈیکس میں 4,266.79 پوائنٹس یعنی 2.59 فیصد اضافہ ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 168,893.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں کی صورتحال
عالمی سطح پر بھی جمعہ کو ایشیائی منڈیوں میں منفی رجحان دیکھا گیا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قدرِ قیمت سے متعلق خدشات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے توانائی مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا۔
جاپانی شیئرز میں بھی کمی دیکھی گئی جبکہ ین اور امریکی ٹریژریز میں اضافہ ہوا, سونے کی قیمت 2 روزہ اضافے کے بعد مستحکم رہی۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں عمانی ثالث نے مثبت اشارے دیے، تاہم توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
جاپان کے علاوہ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسفک انڈیکس میں 0.4 فیصد جبکہ جاپان کے نکی انڈیکس میں 0.8 فیصد کمی ہوئی۔

ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا نے توقعات سے بہتر نتائج جاری کیے، تاہم امریکی شیئرز مارکیٹ مجموعی طور پر منفی بند ہوئی اور کمپنی کا شیئر آفٹر آورز ٹریڈنگ میں تقریباً مستحکم رہا۔
امریکی ایکویٹی فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز 0.41 فیصد اور نیسڈیک 100 ای-منی فیوچرز 0.36 فیصد نیچے رہے۔
مجموعی طور پر مقامی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی منڈیوں کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر نمایاں مندی دیکھنے میں آئی۔














