پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

منگل 17 مارچ 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں اس سوال کا جواب تلاش  کرنا ہوگا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے جب جنرل گریسی کو کشمیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو اس پر عمل کیوں نہ ہو سکا، آپ کو یقیناً حیرت ہوگی کہ اس معاملے کا افغانستان کے معاملات سے کیا تعلق ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ اس کا پاک افغان تعلقات سے گہرا تعلق ہے۔

ہمارے ہاں یہ بات قومی یادداشت کا حصہ بن چکی ہے کہ قائداعظم نے جنرل گریسی کو کشمیر پر حملے کا حکم دیا مگر جنرل گریسی نے انکار کردیا، یہ مگر درست نہیں ہے۔

سچ یہ ہے کہ جب جنرل گریسی کو یہ حکم ملا تو اگلے ہی دن جنرل گریسی لاہور جا کر قائداعظم سے ملے اور ان کے ساتھ پاکستان اور بھارت میں افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کلاڈ آکنلیک بھی موجود تھے۔ جنرل گریسی لکھتے ہیں کہ انہوں نے قائداعظم کو بتایا کہ کچھ وجوہات کی بنیاد پر یہ حملہ ممکن نہیں۔ قائداعظم نےیہ وجوہات سنیں اور زمینی حقائق سے آگہی کے بعد جنرل گریسی سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

جنرل گریسی کی بتائی گئی ان وجوہات میں سے ایک وجہ افغانستان اور اس کے مقامی سہولت کار تھے۔ گریسی کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر فوج کشمیر پر حملہ کرتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وزیرستان سے دستے ہٹا لیے جائیں۔ ایسا ہوتا ہے تو مغرب سے خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کچھ مقامی سیاسی قوتیں بھی شورش برپا کر سکتی ہے۔ مغرب کا خطرہ افغانستان تھا اور مقامی سیاسی قوتوں سے مراد وہی تھے جو گاندھی کی بھارت ماتا کے ساتھ مل کر رہنے کو تو تیار تھے لیکن پاکستان بنتے دیکھ کر ان کو پشتونستان یاد آ گیا۔

افغانستان اور اس کے مقامی سہولت کارپاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکے تھے اور ان کی جانب سے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ یعنی یہ وہ پہلی فالٹ لائن تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے کشمیر میں حملہ نہ کیا جا سکا۔ یہ فالٹ لائن آنے والے دنوں میں نمایاں ہوتی چلی گئی۔

تاریخ کا حصہ ہے کہ پہلے دن سے ہی  بھارت نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے سب سے پہلی کوشش بھی افغانستان سے ہوئی، پاکستان کے خلاف پہلی فوج کشی افغانستان  نے کی، پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز افغانستان نے کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل پاکستان پہلی دھمکی افغانستان کے سفیر نے دی۔ پاکستان کے خلاف پہلی دہشتگرد تنظیم ’پشتون زلمے‘ افغان وزیراعظم ہاشم خان کی زیر نگرانی  تشکیل دی گئی۔ بلوچستان میں شورش اور بغاوتوں  کی سرپرستی کی جانے لگی۔ افغان وزیراعظم داؤد خان نے تو پاکستان میں بغاوت کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی اور خود ہی اس کے وزیر بن بیٹھے۔

یہ ایک بڑی تکلیف دہ صورت حال تھی، پاکستان ایک مستطیل میں پھیلا ہے جس کی لمبائی زیادہ مگر چوڑائی کم ہے۔ جنوبی کونے میں سر کریک کے ڈیلٹا سے لے کر شمالی کونے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک بھارت بیٹھا ہے، جس کے ساتھ پاکستان کی سرحد قریب 2912 کلومیٹر ہے۔ دوسری جانب رباط جعلی سے لے کر واخان تک افغانستان ہے جس کے ساتھ پاکستان کی سرحد 2640 کلومیٹر طویل ہے۔ اب اگر بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی دشمن ہو جائے تو پاکستان ان دونوں کے بیچ میں سینڈوچ بن جائے جس کے مشرق میں تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر بھی دشمن ہو اور مغرب میں ڈھائی ہزار کلومیٹر سرحد پر بھی دشمن بیٹھا ہو۔

اس ’اسٹریٹیجک سینڈ وچ‘ بننے سے بچنے کے لیے پاکستان نے فیصلہ کیاکہ افغانستان میں ایک دوست حکومت ہونی چاہیے، اسی تصور کا نام اسٹریٹیجک ڈیپتھ تھا۔

ہمارے ہاں اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے اس تصور کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا  کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی بھارت پاکستان پر حملہ کر دے تو پاکستان اپنا اسلحہ اور جنگی سازوسامان افغانستان پہنچا دے گا تاکہ وہ تباہی سے بچ جائے اور پھر افغانستان سے وہ اپنی بقا کی جنگ لڑے گا اور جوابی حملہ کرےگا۔

یہ بالکل احمقانہ بات ہے، یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے حملے کا جواب ہر بار پاکستان کی زمین سے دیا گیا۔ پاکستان کبھی بھاگ کر افغانستان نہیں گیا۔ یہ افغان تھے جو جنگوں میں بھاگ کر پاکستان آئے اور پاکستان نے ان کے لیے دل کے دروازے کھول دیے۔

اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے تصور پر دوسری تنقید یہ کی گئی کہ پاکستان افغانستان کو اپنا صوبہ بنا کر رکھنا چاہتا ہے اور اسے بطور خود مختار ریاست قبول نہیں کرتا، یہ بات بھی احمقانہ ہے۔ پاکستان افغانستان کو اپنا صوبہ کیوں بنائے گاَ؟ پاکستان نے اپنے کتنے لوگ وہاں آباد کیے؟ کتنے پاکستانی وہاں کاروبار پر قابض ہوئے؟ کیا پاکستان نے وہاں کی سونے کی کانون پر قبضے کیے؟ کیا وہاں کے وسائل پر قبضہ کیا؟ پاکستان نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا البتہ لاکھوں افغان شہری پاکستان میں آباد ہوئے اور پاکستان کے وسائل سے مستفید ہوئے، یہاں تک کہ جب واپس بھیجا گیا تو وہ اپنے وطن جانے کو تیار نہ تھے۔ پاکستان نے افغانستان کو صوبہ بنایا یا افغانستان نے پاکستان کو صوبہ بنائے رکھا؟

پاکستان نے اپنے ابتدائی دنوں کے تلخ تجربات سے مجبور ہو کر صرف یہ چاہا کہ افغانستان میں ایک دوست حکومت ہو تاکہ بھارت  اسے پاکستان کے خلاف استعمال نہ کر سکے، یہ ایک جائز خواہش تھی۔  اسی کا نام اسٹریٹیجک ڈیپتھ تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ بھارت اگر یہاں آکر فتنہ گری کر سکتا تھا تو کیا پاکستان کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ پڑوس میں ایک دوست حکومت  کی خواہش رکھے۔

اب جب بھارت ایک بار پھر افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے اور افغان حکومت ایک بار پھر بھارت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ پاکستان کا اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور کتنا منطقی اور ضروری تھا۔

یہ الگ بات کہ نئے پاکستان کے سنہرے دنوں میں وفاقی وزیر جناب شہریار آفریدی نے فرمایا تھا کہ میرے وزیراعظم نے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا تصور ختم کردیا۔

کیا آپ میری رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ شہریار آفریدی کیا کہنا چاہتے تھے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایپل نے دوسری جنریشن کے ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں متعارف کرا دیے

کنگ فیصل یونیورسٹی کی جنیوا انٹرنیشنل ایگزیبیشن میں بڑی کامیابی، 5 تمغے اپنے نام کرلیے

پاکستان میں نشاط گروپ کی جیکو جے 8 پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی متعارف ہونے کا امکان

سعودی وزارتِ سیاحت کا مہمان نوازی مراکز اور ہوٹلوں کے معائنے تیز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

کالم / تجزیہ

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا

دوستی کا نیا چراغ