کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں سینیٹ سیکریٹریٹ نے موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ بجٹ کے استعمال میں 50 فیصد سے زائد کمی کی پیش گوئی کی ہے جس سے اندازاً 700 سے 750 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔
کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23 ارب روپے سے کس کو ریلیف دیا جائے گا؟
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر سینیٹ سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔
اس عمل میں سینیٹ کے بجٹ اخراجات میں نمایاں کمی پر توجہ دی گئی جس کا آغاز چیئرمین کے اپنے دفتر کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی سے کیا گیا۔
مالیاتی نظم و ضبط کو ہر سطح پر نافذ کرنے کے اصول کو اپناتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری اقدامات کا آغاز اعلیٰ ترین سطح سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ چیئرمین کے دفتر کے بجٹ میں نمایاں کمی کا حکم دیا گیا تاکہ دیگر تمام شعبے بھی اس کی پیروی کریں۔
چیئرمین سینیٹ نے سیکریٹریٹ میں فوری طور پر کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے لیے جامع ہدایات جاری کیں جن میں بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی، پی او ایل (پٹرول، آئل اور لبریکنٹس) کے استعمال میں 50 فیصد کمی، 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو غیر فعال کرنا، غیر ضروری خریداریوں پر سخت پابندی اور حکومتی پالیسی کے مطابق تنخواہوں سے کٹوتیوں/عطیات کا نفاذ شامل ہے۔
مزید برآں ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے لیے روٹیشن کی بنیاد پر پک اینڈ ڈراپ سہولت فراہم کرنے جیسے انتظامی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کا مقصد آپریشنل اخراجات میں کمی اور وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ آئندہ کسی بھی خریداری کو سینیٹ کی ایک خصوصی کفایت شعاری کمیٹی کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: کفایت شعاری مہم کی نگرانی، وزیراعظم نے آئی بی کو اہم ذمہ داری سونپ دی
چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی عہدہ ایک مقدس امانت ہے اور اس کے تقاضے مالی معاملات میں اعلیٰ ترین احتیاط اور دانشمندی کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور مالیاتی نظم و ضبط سیکرٹریٹ کے تمام انتظامی اور مالی امور میں رہنما اصول ہونے چاہئیں۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری مہم کا دائرہ وسیع، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی منظوری دیدی
انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری محض ایک پالیسی ہدایت نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے اور سیکرٹریٹ کے تمام شعبوں کو ہدایت کی کہ وہ ان اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ کارکردگی، ذمہ دارانہ طرز حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔














