کابل میں اسلحہ، گولہ بارود اور ڈرونز کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا، شہری ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ افغان طالبان کے اسلحہ، گولہ بارود اور ڈرونز کے ذخیرے پر مشتمل ڈپو تھا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا، پاکستان نے افغان طالبان کا دعویٰ مسترد کردیا

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گولہ بارود میں دھماکوں کی شدت ایسی تھی کہ اس کے اثرات پورے شہر میں محسوس کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ پراپیگنڈا ہیں، کیونکہ طالبان کے جنگجو اکثر سویلین لباس میں ہوتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان نشے کے عادی افراد کو خودکش کارروائیوں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرونز افغان طالبان کو بھارت کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اس جنگ کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ ترجمان پاک فوج نے بتا دیا

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان شہریوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے، اور اس جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی پختہ ضمانت دی جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ملک میں جہاں بھی حملے ہوتے ہیں، ان میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے۔

ان کے مطابق طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں بلکہ سویلین لباس پہنتے ہیں، اب کیا ان کو سویلین شہری کہا جائےگا؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ دہشتگردوں کی کارروائیوں میں ہزاروں پاکستانی بچے شہید ہو چکے ہیں۔ ہماری افغان قوم کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں، بلکہ افغان شہری خود دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے 81 مقامات پر ایئر اسٹرائیک کی جا چکی ہیں۔ اس جنگ کو دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز نے پاکستان پر مسلط کیا ہے، اور حملوں کا نشانہ افغان شہری نہیں بلکہ دہشتگرد عناصر ہیں۔

افغانستان میں ہونے والی کارروائی کی تفصیلات جاری کی جاتی ہیں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہاکہ افغانستان میں کارروائی کے فوری بعد وزارت اطلاعات کی جانب سے تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہاکہ دہشتگرد تنظیموں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، جن میں نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر شامل ہیں۔ افغان طالبان رجیم کی پرانی عادت ہے کہ وہ نشے کے عادی افراد کو دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ڈرون بنانے کی کوئی فیکٹری موجود نہیں، بلکہ بھارت افغانستان کو ڈرون فراہم کررہا ہے۔

پہلے ہمیں صبر کرنے کا کہا جاتا تھا، اب یہ صبر کریں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پہلے جب ہم بات کرتے تھے تو کہا جاتا تھا صبر کریں، اب یہ صبر کریں۔

ان کے مطابق دوست ممالک کو کہا گیا ہے کہ آپ افغان طالبان کی گارنٹی دیں، لیکن کوئی بھی دنیا میں افغان طالبان رجیم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور افغانستان سے آنے والے تمام ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ کسی کو بھی پاکستان میں دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

افغان طالبان رجیم نے دہشتگردوں کو سرکاری عمارتوں میں چھپایا ہوا ہے

انہوں نے کہاکہ افغان طالبان رجیم نے دہشتگردوں کو سرکاری عمارتوں میں چھپایا ہوا ہے، اور اب صورت حال یہ ہے کہ یہ دوسری رات ایک جگہ پر نہیں گزارتے، ہم نے آپریشن کے دوران ان کی 44 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس دہشتگردی میں منشیات بھی کردار ادا کر رہی ہیں، اور اسلام میں کسی جگہ بھی دہشتگردی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کراس بارڈر دہشتگردی اور اسمگلنگ میں کمی آئی ہے۔

افغان طالبان کے اسامہ بن لادن کی اولاد سے رابطے ہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف نے مزید بات کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ افغان طالبان کے اسامہ بن لادن کی اولاد سے رابطے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کشیدگی: چین کی ثالثی کی پیشکش، مذاکرات پر زور

افغانستان دہشتگرد عناصر کو پاکستان کے حوالے کرے

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس سے پہلے ضروری ہے کہ وہ دہشتگرد عناصر کو پاکستان کے حوالے کریں۔ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp