آپ نے یقیناً دیکھا ہوگا کہ اسکول، کالج، یونیورسٹی کے زمانے میں یا جاننے والوں، عزیز واقارب میں بعض ایسے ٹیلنٹیڈ غیرمعمولی نوجوان ہوتے ہیں جن سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ بڑا کارنامہ سرانجام دیں گے۔ ان کی اٹھان بڑی شاندار ہوتی، اپنے کلاس اور تعلیمی ادارے میں نمایاں ہو جاتے، کئی تو ایسے ملک بھر میں پھیلی طلبہ یونین کے مرکزی صدر بن گئے ۔ توقع ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کچھ کر دکھائیں گے اور کچھ نہیں تو سیاست کے شاہ سوار ہوں گے۔ پھر ان کا پتا ہی نہیں چلتا۔ برسوں بعد خبر ملتی کہ امریکا، کینیڈا یا یورپ کے کسی شہر میں کوئی معمولی سا اسٹور چلا رہے یا کچھ اور کر کے اپنی زندگی چلاتے رہے۔ ان کا وہ طنطنہ، جوش ،ولولہ، کرنٹ اور کچھ کر گزرنے کا عزم سب نجانے کیسے اور کہاں ہوا ہوگیا؟ کچھ کر ہی نہیں پائے۔ ایک عام، اوسط سے کم درجے کی زندگی گزارتے رہے اور بعض سیاہ بخت تو اسی گمنامی ہی میں رخصت ہوگئے۔
یہ بات کھلاڑیوں میں بھی نظر آتی ہے، فن کاروں، لکھنے والوں، ادیبوں، شاعروں میں بھی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان میں وہ بدنصیب بھی شامل ہیں جن کی پہلی تخلیق، پہلاڈراما یا فلم اور پہلا میچ سپرہٹ پرفارمنس لیے تھا۔ دھوم مچ گئی مگر سال 2 کے اندر ہی سب کچھ جیسے ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ ان کا نام بھی کسی کو بعد میں یاد نہیں رہا۔
مختار مسعود میرے پسندیدہ مصنف ہیں۔ ان کی ہر کتاب شاہکار ہے۔ ’آواز دوست‘ کے تو خیر درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے، شاہد ہی کوئی باذوق ہوگا جس نے یہ کتاب نہیں پڑھی۔ ’سفرنصیب‘ دوسری کتاب تھی، اس میں ان کے سفری مشاہدات ہیں۔ ’لوح ایام‘ مختار مسعود کی ایک اور غیر معمولی کتاب ہے۔ انقلاب ایران کے دنوں کا چشم کشا مشاہدہ ۔ لوح ایام ایسی کتاب ہے، جسے بار بار پڑھنے کا جی چاہے۔اس کا ذائقہ نہ چکھنے والے بدنصیب ہی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا
مختار مسعود اپنی ہر کتاب پر بہت محنت کرتے تھے، ایک ایک جملے کو تراشتے ، بار بار چمکاتے۔ اسی وجہ سے ان کی کتب کئی کئی برس کے وقفے کے بعد ہی شائع ہو پاتیں۔ ان کی آخری کتاب ’حرفِ شوق‘ مختار مسعود کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور سے شائع ہوئی۔ بدقسمتی سے اس شاندار کتاب کو ہمارے ہاں بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ شاید اس لیے کہ زمانہ جہالت چل رہا ہے، میڈیا پر ہر وہ چیز زیر بحث لائی جاتی ہے، جس میں عقل، فکر اور دانش ذرہ برابر بھی شامل نہ ہو۔
’حرفِ شوق‘ پچھلے 10-15 برسوں میں شائع ہونے والی بیسٹ نان فکشن بک ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کتاب پر کالم لکھے جاتے، ٹی وی پروگرام ہوتے اور اس کے مختلف اقتباسات اخبارات، جرائد میں شائع ہوتے رہتے تاکہ پڑھنے لکھنے والے لوگ، خاص کر نوجوان اس طرف متوجہ ہوں۔ حال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بھی علم نہیں کہ اس طرح کی کوئی کتاب شائع ہوئی ہے۔
اس کتاب میں مختار مسعود صاحب نے بھی اسی موضوع پر لکھا ہے کہ کس طرح زمانہ طالب علمی میں کسی طالب علم کے ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کی دھوم مچ جائے، یوں لگے آگے جاکر نجانے اس نے کیسی کیسی منزلیں سر کر لینی ہیں۔چند برسوں بعد اسے دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ جس سے غیر معمولی زندگی گزارنے، لافانی شہرت کمانے کی توقع تھی، وہ ایک عام، اوسط سے بھی نیچے درجے کی زندگی گزار رہا اور اسی میں مست ہے۔ دراصل کامیابی پانے کے لیے جس کٹھنائی، دشواری سے اس نے گزرنا تھا، نہ گزرا، جو قیمت ادا کرنا تھی، وہ نہ کی گئی، آسانی کو مشکل پر ترجیح دی اور ایک غیر معمولی انسان معمولی انسان کے طور پر جیا، پھر دنیا سے چلا گیا۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی باصلاحیت شخص کو حالات کے تھپیڑے منزل سے بہت دور لے گئے۔ اس کے حالات خراب ہوگئے، مشکلات آن پڑیں، روزگار کے مسائل میں یوں الجھا کہ بڑے کام کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو پایا۔ اسے تقدیر کہیں یا پھر کچھ اور؟ا ٓزمائشیں آدمی کو اٹھا دیتی ہیں، وہ اپنی سکت، استعداد سے کہیں زیادہ کر گزرتا ہے، مگر اسی طرح آزمائشیں آدمی کو توڑ بھی دیتی ہیں، وہ جو آسانی سے کر سکتا تھا، وہ بھی نہ کر پایا اور سرے سے ہتھیار پھینک کر کم تر پر راضی ہوگیا۔
مختار مسعود صاحب اسی حوالے سے حرف شوق میں لکھتے ہیں:’لندن میں ایک دن سرِ راہ میری ملاقات خورشید الاسلام سے ہوگئی۔ چند سال قبل خورشید بھائی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سرکردہ اور شعبہ اردو کے ممتاز طالب علم شمار ہوتے تھے۔ لائق فائق، متین اور خوش اخلاق، تحریر اور تقریر دونوں میں طاق۔ یونیورسٹی میں سب ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ ان کے مستقبل کے بارے میں اچھی اچھی باتیں کرتے۔ تان اس پر توڑی جاتی کہ طرزِتحریر اور اسلوب نگارش میں وہ کمال حاصل کریں گے کہ اردو ان پر ناز کرے گی۔ ایک دن باہر کے ایک معتبر شخص نے اس صاحبِ جوہر کے لیے اپنے خط میں 2 جملے ایسے لکھے کہ سب رشک اور حیرت کا شکار ہوگئے۔ یونیورسٹی میگزین میں اس خط کی اشاعت کے بعد معاصرین نے انہیں ہمیشہ بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا اور ان سے بڑی توقعات وابستہ کر لیں۔
خورشید الاسلام نے ایم اے اردو کی سند کے لیے شبلی نعمانی پر جو طویل تنقیدی مقالہ لکھا تھا، وہ یونیورسٹی میگزین میں شائع ہوا۔ ہندوستان کے وزیر تعلیم نے وہ مقالہ پڑھا اور بے حد متاثر ہوئے۔ رشید احمد صدیقی کے نام خط لکھا اور دریافت کیا کہ یہ خورشیدالاسلام نام شخص کون ہے جس نے اتنا اچھا مضمون لکھا ہے؟ خورشید الاسلام کی انشا پردازی کی بے اختیار تعریف کرنے والے وزیر تعلیم کا نام مولانا ابوالکلام آزاد تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے علی گڑھ کو ایک نیا عبدالرحمٰن بجنوری مل گیا ہے۔ اس کے نام کا ڈنکا بجے گا، علی گڑھ سرخرو ہوگا۔ ہم اس بات پر ناز کریں گے کہ ان کے جونیئر اور جاننے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
سرما کی ایک شام میں ٹھٹھرتا ہوا برٹن کی غریب نواز دکان میں سستے اوورکوٹ کی قیمت کو دسترس سے باہر پاتے ہوئے آکسفورڈ اسٹریٹ کے فٹ پاتھ پر کھڑا گرما گرم کاجو خرید رہا تھا کہ سامنے سے خورشید الاسلام آتے ہوئے نظر آئے ۔کئی سال کے بعد ان کے یوں اچانک ملنے پر جی بہت خوش ہوا۔ انہوں نے اوور کوٹ پہن رکھا تھا اور اپنے آپ کو ’دوسرے طریقوں‘ سے گرم رکھنے کا بھی پورا پورا انتظام کیا ہوا تھا۔ رسمی سوال جواب کے بعد میں نے سب سے پہلے اس خدشے کا اظہار رضاکارانہ اور بن مانگے مشورہ کے طور پر کیا کہ تحقیق وتنقید کے لیے لندن کی موزونیت کہیں ان کی تخلیقی تحریر اور انشاء کے جوہر پر غالب نہ آجائے۔ پھر فرطِ شوق سے دریافت کیا کہ ابوالکلام کے توصیفی خط کے بعد وہ کتنے مقالے، مضامین اور کتابیں لکھ چکے ہیں۔ کیا کچھ لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں، ان کے شاہ کار کے لیے کتنا انتظار درکار ہے۔کچھ دیر وہ خاموش رہے جیسے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہوں۔ صبر آزما خاموشی کے بعد فرمانے لگے ، میں آج کل ایک اہم کام میں مصروف ہوں۔ انگریزوں کے لیے اردو کا قاعدہ لکھ رہا ہوں۔
میں نوجوان تھا۔ حساس تھا۔ یہ بات سن کر میرا دل بجھ گیا۔خورشید صاحب سے اس کے بعد کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس اتفاقی ملاقات کے 30-35 برس بعد میں نے ایک انگریز مستشرق سے یہ سوال کیا کہ خورشید الاسلام طرز اور صاحب اسلوب ادیب کی حیثیت سے اس مقام تک کیوں نہ پہنچ سکے جو مولاناآزاد کے خط کی روشنی میں ان کا حق بنتا تھا۔جواب ملا، انشا اور آسائش کا مقابلہ تھا۔ آسائش انشا پر غالب آئی۔ خورشید کا تعلق تن آسانوں کے قبیلہ سے ہے۔ یہ لوگ جسم و جاں کو کسی مشکل میں ڈالنے کے قائل نہیں۔ پِتا ماری اور عمر بھر مسلسل محنت ان کے بس کی بات نہیں۔ بالآخر وہ گواہی جو خود ان کی تحریر کو دینا تھی، اس کے لیے صرف گنے چنے واقف حال احباب ہی رہ جاتے ہیں اور وہ بھی کتنا عرصہ۔
مجھے خبر نہیں کہ یہ تجزیہ کہاں تک درست ہے۔ میں تو صرف 2 باتیں جانتا ہوں۔ پہلی یہ کہ اردو کو ایک بڑے انشا پرداز کا گھاٹا پڑ گیا۔ علی گڑھ کو دوسرا عبدالرحمٰن بجنوری میسر نہ آ سکا۔ دوسری یہ کہ جب بھی کسی آدمی کے دل میں آسودگی اور خوش باشی کی جنگ دیگر آرزؤں اور خواہشوں کے ساتھ لڑی گئی، اس میں فتح ہمیشہ آرام طلبی کی ہوتی ہے۔ استثنا کی صورت یہ ہے کہ وہ جنگ ایک اصول اور عقیدے کی خاطر کسی سر پھرے کے دل ودماغ میں لڑی جائے۔
اسکول میں ایک ہم جماعت اردو کے پرچے میں اول آتا۔ مضمون نویسی میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتا۔ خوش خط ایسا کہ اس کی تحریر پر کتابت کا گماں ہوتا ۔ جامعہ ملیہ سے آیا تھا۔ ایک مجموعہ الفاظ اور اصطلاحات ہمراہ لایا تھا۔ حتیٰ الامکان انگریزی الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتا۔ ہمارا ہائی اسکول اس کا ثانوی مدرسہ تھا۔ ہم جسے اسکول کا میگزین کہتے، وہ اس کے لیے مجلہ یا جریدہ تھا۔ ادارت کے نگران کو ہم ایڈیٹر کہتے اور وہ اسے مدیر یا مجلہ نگار قرار دیتا۔ ایک دن وہ اسکول میگزین کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ میں اس کا اسسٹنٹ ایڈیٹر بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟
وقت بڑا ظالم ہے۔ کیسی کیسی خوبیوں اور صلاحیتوں کو غیر ضروری قرار دے کر کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر پھینک دیتا ہے۔ مجھے اس کی بہت سی مثالیں یاد ہیں اور ساری یادیں تلخ ہیں۔ ان کی تلخی کی کیفیت وہ ہوتی ہے جسے ہندی میں مسوسا کہتے ہیں یعنی ندامت اور نقصان جو چپکے سے جبراً برداشت کیا جائے۔ آزادی کا آٹھواں دسواں سال ہوگا۔ کراچی ابھی ملک کا صدر مقام تھا۔ میں لاہور سے بکارِسرکار کراچی آیا ہوا تھا۔ سرکاری اجلاس میں شرکت کے بعد کرایے کی سواری میں بیٹھ کر ریسٹ ہاؤس پہنچا۔ سواری سے اتر کر میں نے کرایہ دریافت کیا۔ جواب ملا، میں اپنے نائب مدیر سے کرایہ نہیں لیتا۔ میں نقوی سے لپٹ گیا۔ ایک ہی سانس میں بہت سے سوال کر ڈالے۔ بہت سی باتیں دریافت کیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، دوسرے سانس میں اور کئی جوابات کا بوجھ اس پر لاد دیا۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ دلی کالج میں ایک طالب علم محمد حسین ہوا کرتا تھا۔ اردو مضمون نویسی میں اول انعام لیا کرتا۔ بڑا ہو کر مولانا محمد حسین آزاد بن گیا۔ تم مسلم یونیورسٹی اسکول میں انعام لیا کرتے تھے۔ تمہارے پرانے خیر خواہ تمہای انشائی صلاحیتوں کے ثمربار ہونے کا انتظار کر رہے ہیں مگر تم کسی اور راہ پر چل نکلے ہو۔جواب میں صرف اتنا کہا ، گھر ادھر فسادات میں جل گیا تھا، صلاحیتیں ادھر دوزخ شکم کی آگ بجھاتے ہوئے راکھ ہوئیں‘۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













