کے پی کے سے ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں کم عمر بچے ہتھیار لیے کھڑے ہیں ۔ اس پر بحث بھی جاری ہے کہ کیا اسے ریاستی رٹ کے لیے حقیقی خطرہ سمجھا جائے یا یہ ابلاغ کی دنیا کا ایک حربہ ہے کہ فوٹو شوٹ کر کے ریاستی رٹ کے خاتمے کا تاثر دیا جائے اور معاشرے میں خوف پھیلایا جائے کہ نان سٹیٹ ایکٹرز طاقت ور ہو رہے ہیں ۔ یہ ساری بحث دفاعی نکتہ نظر سے ہو رہی ہے اور اس میں سماج اور انٹر نیشنل لا کہیں زیر بحث نہیں آ رہے ۔ ایک طالب علم کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ جب تک بحث میں یہ دو پہلو بھی شامل نہ ہو جائیں، بحث ادھوری رہے گی۔
حقیقت ہو یا فوٹو شوٹ، بچوں کے ہاتھوں میں پھول اور کتابیں ہی اچھی لگتی ہیں۔ بچوں کے ہاتھ میں بندوق کا آ جانا ایک تہذیبی المیہ ہوتا ہے۔ یہ المیہ ہم پر عشروں پہلے بھی بیت چکا۔ مجھے اپنا زمانہ طالب علمی یاد آتا ہے، طلبا تنظیموں کے سٹیج سے نغمے گونجا کرتے تھے: لہو کے قطرے لہو کے قطرے۔ تعلیمی اداروں میں علم کے بجائے لہو کو گلوریفائی کیا جا تا رہا۔ ب سے بندوق پڑھایا جاتا رہا۔ غریب کے بچے مقتل کو روانہ کیے جاتے رہے اور قائدین کے اولادیں امریکا میں تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ خواجہ آصف اس سارے عمل پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں لیکن اس خود احتسابی کے ساتھ ساتھ جب تک بچوں میں بندوق، گولی اور لہو کی ڈی گلوریفیکیشن کا مربوط عمل شروع نہیں ہوگا، یہ کام ادھورا ہی رہے گا۔
ریاست اور بچوں کا معاملہ بڑا ہی نازک اور لطیف ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ریاست بچوں کو محض ان کے والدین پر نہیں چھوڑ سکتی۔ غور کیجیے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ والدین سے زیادہ بچوں کو خیر خواہ کون ہو سکتا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود ریاست یہ حق رکھتی ہے کہ بچوں کے معاملے میں والدین کے حق میں بھی مداخلت کرے۔
اس چیز کو چند مثالوں سے سمجھیے۔ والدین نہ بھی چاہیں تو ریاست بچوں کو تعلیم کا حق دے گی۔ والدین نہ بھی چاہیں تب بھی ریاست بچوں کی صحت کا خیال رکھے گی اور انہیں پولیو کی ویکسین پلائے گی، والدین چاہیں بھی تو بچوں سے چائلڈ لیبر نہیں کروا سکتے، ماں باپ چاہیں بھی تب بھی ایک خاص عمر تک بچوں کی شادیاں نہیں کر سکتے۔ اسی اصول کا اطلاق وہاں بھی ہوتا ہے جہاں کوئی گروہ، یا حتی کہ والدین، یہ چاہیں کہ بچوں کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دیں۔ اس صورت میں یہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ بچوں کے ہاتھ سے بندوق لے لے اور انہیں کتاب تھمائے۔
یہ سوچنا اب حکومتوں اور معاشرے کا کام ہے کہ جن علاقوں سے بچوں کی ریکروٹمنٹ ہو رہی ہے، وہاں بچوں کی تعلیم کی سہولیات کتنی ہیں۔ اس میں اگر کوئی غفلت ہوتی ہے تو اس کے نتائج پھر خطرناک ہی ہوتے ہیں۔
برسوں پہلے کا واقعہ ہے، بلوچستان میں شورش بہت بڑھ گئی تھی۔ ملک معراج خالد صاحب سے بات ہو رہی تھی کہ وہ ہم جیسوں کے استاد بھی تھےاور مہربان بھی ۔ کہنے لگے اس دہشتگردی سے نبٹنے کا ایک فارمولا یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں کی بہتات کر دیں۔ جب بچوں کا تعلق کتاب اور بستے سے جڑے گا تو دہشتگردی کو خام مال ملنا بند ہو جائے گا۔ جب جب دہشتگرد عناصر بچوں اور بچیوں کے سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں مجھے ملک معراج خالد کی بات یاد آتی ہے۔ تو کیا ہم توقع رکھیں کہ موجودہ حکومت دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے معراج خالد فارمولے پر بھی عمل پیرا ہو جائے۔
بچوں کے حقوق کا معاملہ تو یہ ہے کہ خود ریاست انہیں ایک خاص عمر تک بندوق نہں پکڑا سکتی چوتھے جنیوا کنونشن کے ایڈیشنل پروٹوکول کے آرٹیکل 77 کے مطابق ریاستیں پابند ہیں کہ بچوں کو فوج میں بھرتی نہ کریں۔ جب یہ حق خود ریاست کو نہیں تو ریاست اپنے ان بچوں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ جب 18 سال سے کم عمر بچوں سے چائلڈ لیبر تک کی اجازت نہیں ہے، تو انہیں بندوق تھما کر دیشتگرد بنانے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
بچوں کے حقوق کا اقوام متحدہ کا کنونشن یہ کہتا ہے کہ ہر بچے کو تشدد، استحصال اور مسلح تنازعات سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یعنی کسی علاقے میں بچے کسی انتہا پسند گروہ کا ایندھن بن رہے ہیں تو مذمت کافی نہیں ہے۔ ریاست کو ہر وہ راستہ بند کرنا ہوتا ہے جہاں سے ان بچوں کا استحصال ہو رہا ہو۔
روم سٹیٹیوٹ کے مطابق کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کو بھرتی کرنا، انہیں مسلح کرنا یا براہِ راست جنگی کارروائیوں میں استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔
بچے دہشتگرد گروہوں اور عسکریت پسندوں کا آسان ترین شکار ہوتے ہیں۔ ایک خاص جذباتی ماحول بنا کر ان کی ریکروٹمنٹ آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے دہشتگردی کا شکار ہے لیکن ہمارے ہاں آج تک اس موضوع پر ڈھنگ کا کام نہیں ہو سکا کہ اس عمل میں بچوں کی ریکروٹمنٹ کا تناسب کیا ہے۔ جو سماجی المیے کسی معاشرے کو ادھیڑ دیتے ہیں وہ ہمارے ہاں ابھی زیر بحث ہی نہیں آ سکے۔ ہمارے موضوعات ہی کچھ اور ہیں، ہماری بحثیں ہی کچھ اور ہیں۔ شام کو ٹاک شوز کے موضوعات اور گفتگو کو دیکھ کر خوف آتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پارلیمان میں ہونے والی گفتگو اور مکالموں کا معیار دیکھ کر احساس زیاں آدمی سے لپٹ جاتا ہے۔
ریاست کو اب ماں کے جیسا بننا ہو گا۔ یہ بچے ریاست کے بچے ہیں۔ یہ ریاست کا فرض ہے ان بچوں کے ہاتھ میں کتاب تھمائے۔ یہ ریاست کا فرض ہے ان بچوں کے جذباتی استحصال کو روکے۔ ایک بہتر مستقبل ان بچوں کا بھی حق ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













