چیک ریپبلک کے وسطی شہر پاردوبیتسے میں واقع ایک اسرائیلی اسلحہ تیار کرنے والی کمپنی کی عمارت میں جمعے کے روز آگ لگ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں عید کی روایت زندہ رکھنے کی جدوجہد
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائر بریگیڈ کے مطابق آگ علی الصبح ایک بزنس پارک میں قائم گودام سے شروع ہوئی اور بعد ازاں قریبی انتظامی عمارت تک پھیل گئی۔ تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس کی تحقیقات، دہشتگردی کے پہلو پر غور
وزیر داخلہ لوبومیر میتنار نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس کا تعلق ممکنہ دہشتگردی سے ہو سکتا ہے۔
چیک پولیس چیف مارٹن وونڈراشیک کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی اور ذمہ داران کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا
دریں اثنا چیک نیوز ویب سائٹ Aktualne.cz کے مطابق ایک احتجاجی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاردوبیتسے میں اسرائیلی ہتھیاروں کے ایک اہم پیداواری مرکز کو آگ لگا دی تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی میں اس کے کردار کو ختم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس میں سعودی عرب اور پاکستان کا کردار
رائٹرز کے مطابق چیک دفاعی کمپنی ایل ایل پی ہولڈنگ جس کا اس کمپلیکس میں ایک یونٹ موجود ہے نے اپنی ایک عمارت میں آگ لگنے کی تصدیق کی۔
تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ سنہ 2023 میں اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ ڈرونز کی تیاری کے لیے جو تعاون کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس دوبارہ منظم، کنٹرول مستحکم کرنے کی کوششیں تیز
حکام نے حملے میں ملوث کسی گروپ کا نام تاحال آشکار نہیں کیا ہے۔














