کنگ سلمان ہیومنٹیریئن ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) نے غزہ پٹی میں ایک مرکزی کچن قائم کیا ہے تاکہ فلسطینی عوام کی مدد کی جا سکے اور سعودی عرب کی انسانی ہمدردی کی کوششوں کو عملی شکل دی جا سکے۔
مزید پڑھیں:کے ایس ریلیف کی افغانستان میں امدادی سرگرمیاں: 510 خاندانوں میں غذائی پیکجز تقسیم
رمضان کے آغاز سے، اس کچن نے غزہ کے مرکزی شہروں دیر البلہ اور القرارہ میں فلسطینیوں کے لیے روزانہ 24,000 گرم کھانے فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ اقدام سعودی عوامی مہم برائے فلسطینی عوام کی امداد کے تحت کیا گیا، جس میں سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹیج کے تعاون سے کام کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے اختتام تک، کچن کے ذریعے 36 لاکھ کھانے تقسیم کیے جائیں گے اور 40 مقامی کارکنوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

کے ایس ریلیف کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ غزہ میں انسانی بحران انسانیت کی تاریخ کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی، شدید بے دخلی اور فوری انسانی ضروریات کا سامنا کر رہے ہیں، غزہ کی 90 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور انہیں خوراک، پانی، ادویات اور بچوں کے لیے بنیادی ضروریات دستیاب نہیں ہیں۔
ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے سب سے پہلے فضائی اور بعد میں زمینی و بحری راستوں کے ذریعے غزہ میں امداد پہنچائی، جو اردن اور مصر کے راستوں سے غزہ پہنچی۔
مزید پڑھیں:’کے ایس ریلیف‘ کی غزہ میں امدادی سرگرمیاں جاری، طلبہ میں گرم ملبوسات تقسیم
انہوں نے مزید بتایا کہ اکتوبر 2023 کے بعد جب دیگر ذرائع ممکن نہیں تھے، کے ایس ریلیف نے ایئر ڈراپ کے ذریعے امداد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکزی کچن 36 ہزار خاندانوں کی خدمت کرے گا اور اسے سب سے بڑا مرکزی کچن قرار دیا گیا ہے۔













