جنوبی کوریا کے وسطی شہر Daejeon میں واقع گاڑیوں کے پرزہ جات بنانے والی ایک فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ کے بعد امدادی ٹیمیں جلے ہوئے ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: عیدالفطر: مری جانے والے سیاح خبردار ہوجائیں، نئی ایڈوائزری سامنے آگئی
ابتدائی طور پر ریسکیو اہلکار عمارت کے منہدم ہونے کے خطرے کے باعث فیکٹری میں داخل نہیں ہو سکے۔ مزید یہ کہ وہاں موجود سوڈیم کیمیکل نے بھی امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا کیں، جو غلط طریقے سے سنبھالنے پر دھماکے کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آگ لگنے کے وقت قریباً 170 مزدور فیکٹری میں موجود تھے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 11 افراد ہلاک، 25 شدید زخمی، جبکہ 34 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں اور 3 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے سے قبل ایک زور دار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، جس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ کے عملے نے کرینوں کے ذریعے پانی پھینک کر آگ پر قابو پایا، جبکہ سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان پر چھا گئے۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ نے چین کا دورہ کیوں ملتوی کیا؟ بیجنگ سے خبر آگئی
جنوبی کوریا کے صدر نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے مزدوروں کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔













