پاکستان کے سابق سفیر جاوید ملک کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم ان کی حتمی تصدیق ان رابطوں کے ٹھوس نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا ٹوئٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کردیا
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جاوید ملک نے کہا کہ ایسے سفارتی معاملات عموماً خفیہ رکھے جاتے ہیں اور ان کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر ان کی تفصیلات عوامی سطح پر وقت سے پہلے جاری نہیں کی جاتیں۔
تاہم جاوید ملک، جو بحرین میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں اور ڈپلومیٹک بزنس کلب کے سربراہ و ماہرِ ابلاغ بھی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر مختلف سفارتی اور دیگر حلقوں سے معلومات حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان رابطوں سے متعلق معلومات بھی منظرِ عام پر نہ آتیں اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود سوشل میڈیا پر اس کا ذکر نہ کرتے۔
اسلام آباد مذاکرات کے لیے واحد موزوں مقام ہے
سابق سفیر نے کہا کہ اگر مذاکرات کے لیے کسی مقام کا انتخاب کیا جائے تو اسلام آباد ایک موزوں جگہ ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت نہ صرف سفارتی اور سیاسی اعتبار سے اہم حیثیت رکھتا ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی اس کی اہمیت نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عہدیداروں کے لیے امریکا اور خلیجی ممالک کا سفر ممکن نہیں جبکہ چین نسبتاً دور واقع ہے۔
خلیجی ممالک سے پاکستان کا قلبی، روحانی، نظریاتی اور دفاعی تعلق
جاوید ملک نے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ’قلبی، روحانی، نظریاتی اور دفاعی‘ نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی کئی خلیجی ممالک کے ساتھ غیر رسمی دفاعی تعاون میں شریک ہے اور امکان ہے کہ مستقبل میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
مزید پڑھیے: ایران کے ساتھ مذاکرات جاری، اب جن لوگوں سے بات ہورہی ہے وہ معاہدہ چاہتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے بحرین میں بطور سفیر اپنی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بحریہ اور دیگر ادارے خلیجی ممالک کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت
جاوید ملک کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت نمایاں حد تک بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکا، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ بیک وقت تعلقات اسے ایک منفرد پوزیشن عطا کرتے ہیں۔
سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان کی عالمی حیثیت، خصوصاً دفاعی اور سفارتی شعبوں میں، اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
بھارت کی عالمی تنہائی
جاوید ملک نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بھارت عالمی منظرنامے پر نمایاں نہیں دکھائی دے رہا اور بھارتی میڈیا پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت پر تشویش میں مبتلا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور خاص طور پر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد عالمی منظرنامہ پہلے جیسا نہیں رہا۔
جاوید ملک نے کہا کہ دنیا میں تبدیلیاں اس وقت تیز ہوئیں جب امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں داخل ہوئے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کی خارجہ پالیسی روایتی انداز سے ہٹ کر کثیر الجہتی کی بجائے یکطرفہ نوعیت اختیار کر گئی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا عالمی کارروائیوں کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرتا تھا جیسا کہ جارج بش کے دور میں بھی دیکھا گیا، لیکن موجودہ صورتحال میں ٹرمپ اکثر تنہا فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کے معاشی چیلنجز اور مواقع
پاکستان کی معیشت پر بات کرتے ہوئے جاوید ملک نے کہا کہ یہ ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف کفایت شعاری سے معیشت نہیں چل سکتی بلکہ پاکستانی حکومت کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کی سمت میں بھی اقدامات کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ کشیدگی: ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
جاوید ملک نے تجویز دی کہ پاکستان کو تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی سطح پر اپنا مثبت کردار برقرار رکھے تو اسے خصوصاً خلیجی ممالک، امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات کے ذریعے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
داخلی اتحاد کی ضرورت
جاوید ملک نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن جب کوئی حکومت منتخب ہو جائے تو قومی مفاد کے لیے اس کی حمایت کرنا ضروری ہے۔
جاوید ملک نے کہا کہ جب کوئی شخص وزیراعظم بنتا ہے تو وہ صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے، اور بحیثیت قوم ہمیں اس کے پیچھے متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابیوں کو سراہنے کے بجائے انہیں کم کر کے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر انہیں افسوس ہے۔
جاوید ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم سفارتی مقام پر موجود ہے جہاں وہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک اندرونی استحکام، معاشی بہتری اور سفارتی توازن کو برقرار رکھے۔













