کیا تحریک انصاف اسی راستے پر چل رہی ہے جس پر عوامی لیگ چلی تھی؟ کیا وہ مکتی باہنی کی طرح اپنی فورس اور جتھے منظم کر رہی ہے؟ کیا بیرون ملک عارف اجاکیا جیسے پاکستان دشمن اور نسیم بلوچ جیسے دہشتگرد کے ساتھ مل کر اپنی ہی ریاست کے خلاف بیانیہ کھڑا کرنے کی مسلسل کوششیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں؟
ایک ایسی سیاسی جماعت کے بارے میں یہ سوالات اٹھانا جس سے ایک دور میں آپ کی بہت سی امیدیں اور کافی سا رومان لپٹا رہا ہو، کافی تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن تحریک انصاف جس راستے پر چل نکلی ہے اس کے بعد اس سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بیرون ملک ، عالم یہ ہے کہ زلمے خلیل زاد کے بعد تحریک انصاف اب عارف اجاکیا کی صحبت میں بیٹھ کر ریاست پاکستان پر فرد جرم عائد کر رہی ہے۔ یہ صاحب پاکستان میں پیدا ہوئے ، مسلمان ہوا کرتے تھے ، پھرہندو ہو گئے ۔ پاکستان سے نفرت ان کے تعارف کا نمایاں حصہ ہے۔ عمران خان کے فرزند ارجمند کو جس ریاست میں رہنا کبھی گوارا نہیں رہا ،( حتی کہ باپ کے دور اقتدار میں بھی )، اس ریاست کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے انہیں عارف اجاکیا کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔ ہر وہ ادارہ ، فرد ، لابی جو پاکستان سے نفرت کرتی ہے ، تحریک انصاف اس کے قریب پائی جاتی ہے۔ سوال بڑا اہم ہے : کیا یہ اتفاق ہے یا اہتمام ہے؟
عمران خان صاحب کے صاحبزادے قاسم خان کا اپنے والد کے لیے فکر مند ہونا فطری بات ہے لیکن سوال یہ ہے کیا اس کام کے لیے انہیں ساتھ بٹھانے کو صرف ڈاکٹر نسیم بلوچ ہی ملے تھے؟
نسیم بلوچ کا تعلق بلوچستان نیشنل موومنٹ سے ہے۔ پاکستان کی بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں ، کیا یہ تحریک انصاف کو معلوم نہیں ۔ یا سب کچھ جانتے ہوئے ایک ایسے شخص کو قاسم خان نے ساتھ بٹھایا ہے جو پاکستان دشمن ہے ، جس کے خیال میں پاکستان غاصب ہے ، جو یہ کہتا ہے کہ افغانستان پر حملہ پنجابی فوج نے کیا ہے ، جو پاکستان کے مقابلے میں علانیہ طور پر بھارت اور افغانستان کا حامی ہے۔ جو پاکستان کو دہشتگرد ریاست کہتا ہے۔ جو بلوچ دہشتگردوں کو گلوریفائی کرتا ہے۔ جو اسلم اچھو کا قریبی ساتھی ہے ، جس نے بلوچستان میں خود کش دہشتگرد حملوں کی بنیاد رکھوائی ، جو مجید برگیڈ کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے ، جو 2005 میں تربت اور کراچی میں ہونے والے خود کش حملوں کا منصوبہ ساز ہے ۔ اب کیا تحریک انصاف کے بانی کے صاحب زادے اس نسیم بلوچ کے ساتھ مل کر پاکستان پر حقوق انسانی کی فرد جرم عائد کریں گے؟
بنیادی سوال یہی ہے کہ تحریک انصاف کی منزل کیا ہے؟ اس کا فیصلہ ساز کون ہے؟ اسے اندھی کھائی میں کون دھکیل رہا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں خود عمران خان کے اکاؤنٹ سے شیخ مجیب کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں انہوں نے ساتھ اپنا تبصرہ بھی شیئر کیا تھا اور ویڈیو میں یحییٰ خان کی جگہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی فوٹو لگائی ہوئی تھی ۔ اس پر جب ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں تو پارٹی ترجمان رؤف حسن نے کہ دیا کہ یہ ویڈیو عمران خان کی مرضی کے بغیر پوسٹ کی گئی ہے۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ عمران کا اکاؤنٹ بیرون ملک سے آپریٹ ہوتا ہے۔
آپ غور فرمائیے کہ عمران خان کا 20 ملین سے زیادہ فالور رکھنے والا اکاؤنٹ ہے اور ملک میں کسی کو معلوم ہی نہیں اسے کون چلا رہا ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو تحریک انصاف کی حکمت عملی کو سٹریٹجائز کر رہی ہیں ؟ وہ کون ہیں جن کی مرضی سے عمران کے اکاؤنٹ پر چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں جن کا مقامی قیادت یا سنٹرل ایگزیکٹو یا ترجمان کو پتا ہی نہیں ہوتا۔ پارٹی کی لگام کن قوتوں کے ہاتھ میں ہے؟ یہ امریکا سے سٹریٹجائز ہو رہی ہے یا ہاؤس آف گولڈ سمتھ اسے سٹریٹجائز کر رہا ہے؟
ملک کے اندر دیکھ لیجیے کیا ہو رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے نام پر ٹائیگر فورس منظم ہو رہی ہے۔ اخباری اطلاعات یہ ہیں کہ ریکروٹمنٹ کا عمل جاری ہے۔ حلف لیے جا رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فورس کیا کرے گی؟ لفظ ‘فورس’ بذات خود ایک سوال ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ‘سونامی’ بذات خود ایک سوال تھا اور اسم بامسمیٰ تھا کہ تخریب کے سوا اس نے کچھ نہیں کیا۔
عمران کی رہائی کے لیے قانونی ٹیم کی تشکیل دی جاتی تو بات سمجھ میں آنے والی تھی ، احتجاج کرنا تھا تو سیاسی جماعت اور اس کا ڈھانچہ موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کام کے لیے ’فورس‘ کھڑی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اصل مقصد کیا ہے؟ اس فورس سے کیا کام لینا مقصود ہے؟ کیا ٹائیگر فورس تحریک انصاف کی ’مکتی باہنی‘ بننے جا رہی ہے؟ کیا اس کو ’انصاف باہنی‘ لکھا اور سمجھا جائے؟
سماجی سطح پر یہ مکمل المیہ بن چکی ہے۔ نفرت اس جماعت کی سب سے بڑی قوت ہے۔ ویسے بھی تعمیر میں وقت لگتا ہے اور تخریب اور ہیجان اور نفرت سے لوگوں کو ہانکنا آسان ہوتا ہے۔ ایک سڑک بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن اوباشوں اور بلوائیوں کے ساتھ اسے بند کرنے میں صرف چند منٹ لگتے ہیں۔ تحریک انصاف نے نفرت کو باقاعدہ حکمت عملی کے تحت فروغ دیا ہے۔ دوستیاں اور حتیٰ کہ خونی رشتے تک اس نفرت کا شکار ہو چکے ہیں۔ وحشت کے عالم میں اس کے کارکنان بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں جا کر تشدد تک اتر آئے ہیں۔ یہ اپنے سوا کسی کے وجود کے قائل نہیں۔ حتی کہ ان کا خیال ہے کہ کپتان نہیں تو پاکستان کی بھی ضرورت نہیں۔ اس فاشسٹ سوچ کے تحت جب ایک ’فورس‘ بنائی جائے گی تو تصور کیجیے وہ کیا کیا گل نہیں کھلائے گی۔
معیشت کو لے لیجیے، پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ لیکن تحریک انصاف نے اسے بھی ویپنائز کیا ہے۔ کبھی کے پی کے وزیر خزانہ کو فون کال کی جاتی ہے کہ یہ موقف اختیار کرو تاکہ آئی ایم ایف سے بات نہ بن سکے۔ کبھی براہ راست آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا جاتا ہے ، کبھی اوور سیز سے کہا جاتا ہے پاکستان رقوم نہ بھیجو۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں ملک کے ساتھ کیا ہوتا ہے، بلکہ ملک الجھنے لگے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور کوئی اچھی خبر آئے تو ان کے منہ لٹک جاتے ہیں۔
بھارت سے جنگ ہو یہ زبان حال سے دشمن کا مقدمہ لڑنے لگتے ہیں، اپنی فورسز کے لیے ان کے پاس طعنوں اور دشنام کے سوا کچھ نہیں ہوتا، افغانستان سے جنگ ہو تو یہ پاکستان پر فرد جرم پڑھ کر سنانا شروع کر دیتے ہیں، نفرت میں یہ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے بری خبروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
یہ رجحان مریضانہ ہے۔ بہت خطرناک ہے۔ بیرون ملک ہو یا اندرون ملک، انہوں نے ریاست کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ان کے ساتھ زلمے خلیل زاد ہے یا عارف آجاکیا۔ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں یہ ابلیس کا ساتھ دینے کو بھی تیار نظر آتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ شاید بالکل یکسو ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کب یکسو ہو گی؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












