کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس 27 مارچ کو عارضی طور پر معطل رہے گی۔ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین سروس کو ریلوے ٹریک کی مرمت، پلوں کے معائنے اور دیگر فنی وجوہات کے باعث معطل کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر ریلوے ٹریک اور پلوں کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔ اس عمل کے دوران ٹریک کی حالت کا جائزہ لے کر ضروری مرمت کا کام بھی کیا جائے گا جس کے باعث کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس عارضی طور پر بند رہے گی۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی خدشات، بلوچستان کے مختلف شہروں سے اندرون و بیرونِ صوبہ ٹرین سروس معطل
حکام کے مطابق پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد ریلوے اسٹیشن سے واپس بھیج دیا جائے گا اور ٹرین کو کوئٹہ تک نہیں آنے دیا جائے گا۔
ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان میں ریلوے کی دیگر سروسز بھی اس وقت مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن ایکسپریس گزشتہ دس روز سے مسافروں کی کمی کے باعث معطل ہے جبکہ کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل سروس بھی پہلے ہی سے بند ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو سفر کے لیے متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرین سروسز کی بار بار معطلی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مسافر آغا عمران نے بتایا کہ بلوچستان میں ریلوے کا نظام پہلے ہی محدود ہے اور جب بھی ٹرین سروس معطل ہوتی ہے تو عوام کے لیے سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز ریلوے سروس کی معطلی کے باعث لوگوں کو بسوں اور دیگر نجی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بس سروسز اور ٹو ڈے کوچز کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جس سے عام مسافر کے لیے سفر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
آغا عمران کا کہنا تھا کہ خاص طور پر عید کے بعد واپس آنے والے مسافروں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس دوران سفر کرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور متبادل ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی مزید بڑھ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین میں بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی سیاحتی ٹرین سروس
انہوں نے حکومت اور ریلوے حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو سستی اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ان کے مطابق اگر ریلوے سروسز کو باقاعدگی سے چلایا جائے تو نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ صوبے میں ٹرانسپورٹ کے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔














