وفاقی وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کے حالیہ بیان اور بیرونِ ملک سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا اور ان کے پاکستان آنے کا خیرمقدم کیا، تاہم بعض بیانات اور رویے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ موجود 2 متنازع شخصیات کون ہیں؟
انہوں نے پریس کانفرنس مین کہا کہ قاسم خان کی تقریر کوئی غیرمعمولی بات نہیں، تاہم اگر وہ بغیر تحریر کے بھی بات کرتے تو بہتر ہوتا، لیکن کم عمری کے باعث وہ اسی متن پر انحصار کرتے رہے جو انہیں فراہم کیا گیا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ عمران خان کے دونوں بیٹوں کو پاکستان آنے پر کھلے دل سے خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور انہیں اپنی شہریت پر فخر ہونا چاہیے۔
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ قاسم خان وہاں جا کر تقریر کر دی۔ کاش یہ تقریر پرچی کے بغیر بھی کر لیتے، لیکن چلیں، کوئی بات نہیں بچے ہیں۔ انہیں امی نے یا کسی نے لکھ کر دی ہوگی، انہوں نے اُسی پر چلنا تھا۔ عطا تارڑ pic.twitter.com/8fL0y7dFCI
— WE News (@WENewsPk) March 26, 2026
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان آنے کے بجائے دیگر دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے کی بات کی گئی اور اس تاثر کو فروغ دیا گیا کہ شاید انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، حالانکہ حکومت نے ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر ایک مخصوص بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ نے اپنی گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کو خط لکھ کر پاکستان کو مالی امداد نہ دینے کی اپیل کی، جو کہ قومی مفادات کے خلاف اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان ڈیفالٹ کرتا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری، مزدور، فیکٹری ورکر اور تنخواہ دار طبقے کو ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی، امریکا سے مدد کی اپیل، قاسم خان کا انٹرویو، امریکا کا بھارت کیخلاف اعلان جنگ
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی مفاد کو ملک کے مفاد پر ترجیح دینا درست نہیں، اور یہ تاثر دینا کہ کوئی فرد پاکستان سے بڑا ہے، انتہائی افسوسناک ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے اور ایسے بیانیے سے گریز کرنا ضروری ہے جو ملک کی معیشت اور ساکھ کو نقصان پہنچائے۔













