حکومت نے ملک میں پیٹرول کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایپ بیسڈ کوٹہ اور واؤچر سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس میں ہر گاڑی کے لیے مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق صارفین اپنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے ایپ میں رجسٹر ہوں گے اور ایپ سے ڈیجیٹل واؤچر حاصل کریں گے۔ پیٹرول پمپ پر صارف کا واؤچر اسکین یا ایپ میں انٹر کیا جائے گا، اور سسٹم خودکار طریقے سے دستیاب کوٹے کے مطابق ایندھن فراہم کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے 20 لیٹر مانگا اور اس کا باقی کوٹہ صرف 15 لیٹر ہے تو صرف 15 لیٹر ہی فراہم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں پمپ مالکان کا حصہ کتنا ہے، وہ اضافہ کیوں چاہتے ہیں؟
حکومت نے 2 اور 3 پہیوں والی گاڑیوں کے لیے رمضان پیکج ماڈل کی طرز پر سبسڈی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرول پمپس پر ان گاڑیوں کے لیے الگ ڈسپنسرز یا نوزلز مخصوص کیے جائیں گے تاکہ سبسڈی والا ایندھن آسانی سے دستیاب ہو۔ 4 پہیوں والی گاڑیوں کے لیے سبسڈی کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی زیر غور ہے اور بہت جلد اعلان کیا جائے گا کہ کس کو کتنا پیٹرول دیا جائے گا۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت نے قیمتوں کے بروقت تعین کو یقینی بنایا ہے تاکہ پٹرول پمپ مالکان کو لائسنسنگ یا قیمتوں میں اضافے کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور 2020 کے ایندھن بحران جیسے حالات سے بچاؤ ممکن ہو۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ آئی ٹی، خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان مشترکہ اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرول کی فراہمی کو منظم بنانے کے لیے ایپ بیسڈ کوٹہ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام مکمل طور پر خودکار ہوگا اور اس کے ذریعے صارفین کو مقررہ کوٹے کے مطابق ایندھن فراہم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 27 مارچ کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت صارفین کے لیے ایک علیحدہ موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی، جس میں وہ اپنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے رجسٹریشن کریں گے۔ صارفین ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچر حاصل کریں گے، جسے پیٹرول پمپ پر اسکین کر کے تصدیق کی جائے گی۔ اگر صارف کے کوٹے سے زیادہ ایندھن کی درخواست کی گئی تو سسٹم خودکار طور پر صرف دستیاب کوٹے کے مطابق ہی پیٹرول فراہم کرے گا۔

ذرائع کے مطابق پیٹرول پمپس کے لیے خصوصی ایپ پہلے سے انسٹال شدہ موبائل فونز پر فراہم کی جائے گی اور ہر آؤٹ لیٹ کے لیے کم از کم 2 موبائل فون رکھنا لازمی ہوگا۔ وزارتِ آئی ٹی ان ڈیوائسز کی فراہمی کے لیے مینوفیکچررز کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ڈیوائس کی لاگت تقریباً 36 ہزار روپے جبکہ مارکیٹ قیمت 72 ہزار روپے تک بتائی گئی ہے۔ پیٹرول پمپس کو ڈیوائسز کے حصول کے لیے حکومت کے نامزد اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگا دیا گیا
اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر پیٹرول پمپ کے لیے فوکل پرسن کا تقرر کریں اور اس کی تفصیلات بشمول نام، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر فوری طور پر جمع کروائیں تاکہ نظام کے نفاذ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔
حکام کے مطابق اس نظام کے نفاذ کا مقصد ایندھن کی منصفانہ تقسیم، سبسڈی کے مؤثر استعمال اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام ہے۔ وزارتِ آئی ٹی پٹرول پمپ مالکان کے لیے تربیتی سیشنز، ڈیموز اور ویڈیو ٹیوٹوریلز بھی فراہم کرے گی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ملک کو اس وقت ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں اور حکومت متبادل ذرائع کے لیے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ اسی تناظر میں اس نئے نظام کو تیزی سے نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ملک بھر میں پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔













