پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ذمہ دارانہ اور متوازن سفارتی کردار کو سراہا ہے۔ ماہرین خارجہ امور نے بھی زور دیا کہ ایران کے حملوں کے تناظر میں خطے کے مسائل صرف مل بیٹھ کر اور پائیدار مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر انسانی جانوں کے تحفظ، ریاستوں کی خودمختاری اور عالمی امن کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔
پاکستان میں سعودی سفیر کا پیغام اور خارجہ اُمور کے ماہرین کی آراء
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے حوالے سے سعودی عرب کے تحفظّات درست ہیں اور جب تک اِس معاملے پر تمام فریقین مل بیٹھ کر بات چیت نہیں کریں گے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ذمہ دارانہ سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے فروغ اور بحران کے پرامن حل کے لیے دانشمندانہ اقدامات کیے ہیں، جو علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

سعودی سفیر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ خطے میں حالیہ ایرانی حملے، جو مملکت سعودی عرب اور دیگر خلیجی برادر ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں، نہایت تشویشناک ہیں اور یہ خودمختار ریاستوں کے خلاف بلاجواز جارحیت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطرناک صورتحال صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقے عالمی تجارت اور بحری گزرگاہوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کی سفارتی کوششوں پر سعودی عرب کا خراجِ تحسین
نواف المالکی نے زور دیا کہ ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایمبیسیڈر علی سرور نقوی
پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسیڈر علی سرور نقوی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پُزشکیاں کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلم ممالک پر حملے نہ کرے۔ لیکن ایران کی جانب سے مسلم خلیجی ممالک پر حملے بدقسمتی کی بات ہے گو کہ اُس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ ایران ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے اور اُس کا اس طرح کے حملے نہیں کرنے چاہییں۔
ایمبیسیڈر نائلہ چوہان
پاکستان کی سابق سفیر ایمبسیڈر نائلہ چوہان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اپنے ویڈیو پیغام کے اندر ایک تو پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کی ہے کہ پاکستان نے بڑا متوازن اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ دوسرا اُنہوں نے ایران کی جانب سے خلیجی عرب ممالک کے خلاف میزائل حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اِس سے انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

ایمبیسیڈر نائلہ چوہان نے کہا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے نہ صرف یہ خطّہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ اور یہ حملے حالات کو مزید گھمبیر کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک جو کہ اِس جنگ کا حصہ نہیں ہیں لیکن اُن کی سالمیت اور خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ جب تک امن مذاکرات نہیں ہوں گے، حالات سب کے لئے مزید پیچیدہ ہوتے چلے جائیں گے۔ اِس لیے مسئلے کا پائیدار اور جلد حل سب کے لئے ضروری ہے۔
حافظ طاہر اشرفی
معروف عالمِ دین حافظ طاہر اشرفی نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ عرب ممالک ہمارے کہنے پر صبر کر رہے ہیں اور اُن کے صبر کی تحسین ہونی چاہیے۔ ایران پر حملے سعودی عرب کی جانب سے نہیں ہو رہے اور سعودی عرب جہاں تمام مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے مقدس مقام ہے۔ اُس کی سالمیت اگر خطرے میں پڑتی ہے تو اِس پر تمام مسلمان متفکر ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو مل کر مسلم قیادت سے بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔













