تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی حالیہ سرگرمیوں نے پاکستان کے اقتصادی مفادات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سیشن کے دوران قاسم خان اور سلیمان نے پاکستان کے ر جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا، جو ملک کی معیشت اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔ زلفی بخاری سمیت دیگر شرکا اس احتجاجی مؤقف کو نہ صرف دیکھتے بلکہ سنتے رہے، مگر روکنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنیوا میں عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی متنازع تقریرپرقانون سازوں کی تنقید
تحریکِ انصاف کا مسئلہ محض جھوٹ بولنا نہیں، بلکہ پکڑے جانے کے باوجود ڈھٹائی سے وہی جھوٹ دہراتے رہنا ہے۔ آج یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان کے خاندان نے پاکستان کے ر جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف کچھ نہیں کہا، حالانکہ قاسم کے ساتھ موجود عمران خان کے کزن ڈاکٹر عثمان صاف الفاظ میں پاکستان کا ر جی ایس پی پلس ختم کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دیے۔ اس دوران وہاں موجود زلفی بخاری نہ صرف یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے بلکہ سنتے بھی رہے اور اسے روکنے میں ناکام رہے۔

دوسرے اس سیشن کے ایجنڈے میں پاکستان کا ر جی ایس پی پلس اسٹیٹس شامل تھا، جس میں قاسم اور سلیمان نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھارت نواز ڈاکٹر نسیم بلوچ اور عارف آجاکیا بھی خصوصی دعوت پر شریک تھے۔ ان کی تقریروں میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ یہ دونوں رہنما پہلے بھی پاکستان کے ر جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف مہم چلا چکے ہیں۔

یہ کوئی لغزش نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا مؤقف تھا، جس میں ایک فرد کی سیاست کے لیے پورے ملک کی معیشت کو داؤ پر لگانے میں بھی عار محسوس نہیں کی گئی۔ جو لوگ لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار، ٹیکسٹائل برآمدات اور قومی ساکھ کے خلاف بول کر بھی خود کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل سیاست نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف ایک شرمناک کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں۔














